لاہور: کرونا کیسز میں اضافے پر اسمارٹ لاک ڈاؤن کا سلسلہ جاری
پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور میں متعدد علاقوں کو کرونا وائرس کے کیسز زیادہ رپورٹ ہونے کی وجہ سے سیل کر دیا گیا ہے۔
سیل کیے گئے علاقوں میں داخلی و خارجی راستے بند ہیں جب کہ صرف اشیا خور و نوش کی دکانیں کھولنے کی اجازت ہے۔
فرانس: ایفل ٹاور سیاحوں کے لیے کھولنے کی منصوبہ بندی
فرانس کا مشہوت ترین ایفل ٹاور آئندہ ہفتے سے سیاحوں کے لیے کھولنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
جنگ عظیم دوم کے بعد پہلی بار اتنے لمبے عرصے کے لیے ایفل ٹاور کو سیاحوں کے لیے بند کیا گیا تھا۔
حکام کے مطابق 324 میٹر بلند ٹاور مارچ 2020 سے قبل کی طرح سیاحوں کو خوش آمدید نہیں کہہ سکے گا کیوں کہ ایک مخصوص تعداد میں ہی سیاحوں کو اس ٹاور تک جانے کی اجازت دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ 25 جون سے ٹاور کو سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا تاہم سیاح لفٹ کے ذریعے اس کی سب سے بلند مقام تک نہیں جا سکیں گے۔
سیاحوں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ ٹاور کی پہلی اور دوسری منزل تک ہی جانے کی اجازت دی جائے گی۔
ٹاور کیا انتظامیہ کی ترجمان وکٹوریا کا کہنا تھا کہ سیاح سیڑھیوں کے ذریعے بالائی منزل تک جائیں گے۔
انتظامیہ نے 11 سال سے کم عمر بچوں کی بھی ٹاور تک آمد پر پابندی عائد کی ہے جب کہ وہ سیاح جو ٹاور تک جانا چاہیں گے ان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ فیس ماسک پہنیں جب کہ بھیڑ والی جگہ پر اختیار کی جانے والے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
کرونا وبا سے پولیو مہم متاثر
پاکستان میں اس سال مارچ میں شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کرونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔ اب جون کے آخر میں پولیو مہم بھی مشکوک ہے۔ اس تعطل سے پولیو ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ جانتے ہیں گیتی آرا انیس کی رپورٹ میں
جرمنی: حکومت مزید چار ماہ تک بڑے اجتماعات کے انعقاد پر پابندی کی خواہاں
جرمنی میں حکومت آئندہ چار ماہ تک بڑے اجتماعات پر مکمل پابندی کی خواہاں ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق انجیلا مرکل کی حکومت اکتوبر کے آخر تک ملک میں کسی بھی بڑے اجتماع کے انعقاد پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔
'اے ایف پی' نے ایک حکومتی ڈرافٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکام ملک میں کرونا وائرس کی دوسری لہر آنے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
برلن حکومت یہ منصوبہ بندی بھی کر رہی ہے کہ گرمیوں کی تعطیلات کے بعد اسکولوں کو معمول کے مطابق کھولا جا سکے اور بچوں کا تدریسی سلسلہ دوبارہ ہو کیا جا سکے۔
حکومتی ڈرافٹ کے مطابق سماجی دوری برقرار رکھنے کی حکومتی ہدایات پر عمل در آمد بدستور جاری رہے گا جب کہ کاروباری مراکز اور عوامی مقامات پر ماسک کا استعمال لازمی ہوگا۔