برطانیہ: کرونا وائرس کی شدت میں ایک درجہ کمی
برطانیہ کے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کا زور ایک درجہ کم ہو کر چوتھے سے تیسرے درجے میں آ گیا ہے۔
برطانیہ کے 'جوائنٹ بائیو سیکیورٹی سینٹر' نے کرونا وائرس کے خطرے کے لیول میں ایک درجہ کمی کی ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں وبا موجود تو ہے لیکن اس کا پھیلاؤ تیز نہیں رہا۔
البتہ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ملک میں کرونا وائرس ختم ہو گیا۔ اگر احتیاط نہ کی گئی تو عالمی وبا دوبارہ زور پکڑ سکتی ہے۔
افغانستان میں کرونا کے مزید 346 کیسز، گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گیا
افغانستان کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 'کووڈ 19' کے 346 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ ملک میں اب کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 27 ہزار 800 سے زائد ہو گئی ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق وائرس کے نتیجے میں افغانستان میں اب تک 548 اموات ہو چکی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے فلاحی امداد کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ افغانستان کی تین کروڑ 76 لاکھ سے زائد افراد کی آبادی میں سے 61 ہزار سے زیادہ لوگوں کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا ہے۔
'کووڈ 19' کے مصدقہ کیسز میں پانچ فی صد کیسز صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے عملے کے ہیں۔
علاوہ ازیں افغانستان میں خواتین کے امور کی وزارت نے بتایا ہے کہ گھروں میں قرنطینہ اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک میں گھریلو تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
افغانستان میں انسانی حقوق کے آزاد کمیشن نے کہا ہے کہ گھروں میں بند رہنے کی وجہ سے خواتین کے لیے تشدد کی شکایات درج کرانے کے مواقع بھی محدود ہو گئے ہیں۔
پاکستان کے کئی شہروں میں 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' کا سلسلہ جاری
پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک کے کئی شہروں میں 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' پر عمل درآمد جاری ہے جس کے تحت ان شہروں کے وائرس سے زیادہ متاثرہ علاقوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔
لاہور، کراچی، راولپنڈی، فیصل آباد، سیالکوٹ اور پشاور سمیت ملک کے کئی شہروں کے سیکڑوں علاقوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ صرف ملازمت پیشہ افراد یا ضروری خدمات سے وابستہ ملازمین کو کام پر جانے کی اجازت ہے جب کہ دیگر علاقوں سے لوگوں کو ان علاقوں میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔
'اسمارٹ لاک ڈاؤن' پالیسی کا اعلان پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے 13 جون کو دورہ لاہور کے دوران کیا تھا۔ عمران خان نے کہا تھا کہ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بجائے صرف ان علاقوں کو بند کیا جائے گا جو وائرس سے زیادہ متاثر ہیں۔
اسی دوران 15 جون کو پاکستان میں کرونا وائرس کے خلاف متحرک ادارے 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن کنٹرول' (این سی او سی) نے پاکستان کے بیشتر شہروں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی سفارش کر دی تھی۔
این سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 20 شہروں میں مزید اقدامات کی ضرورت ہے جن میں اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، وہاڑی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، ڈیرہ غازی خان، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، نوڈیرو، گھوٹکی، خیر پور، پشاور، اپر چترال، ایبٹ آباد، مالا کنڈ، مردان اور بلوچستان کے علاقے شامل ہیں۔
سنگاپور: لاک ڈاؤن میں مزید نرمی، جمنازیم اور ریستوران بھی کھل گئے
سنگاپور نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد کردہ پابندیوں میں مزید نرمی کرتے ہوئے جمنازیم کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ سنگاپور کے ریستورانوں میں ڈائن اِن کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق سنگاپور نے جمعے کو لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں مزید نرمی کرتے ہوئے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی اجازت بھی دے دی ہے لیکن پانچ افراد سے زائد کے اجتماع پر پابندی ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کو احتیاطی اقدامات اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی جا رہی ہے۔
سنگاپور میں اب شاپنگ مالز، جِمنازیم، مساج پارلر، پارک اور دیگر عوامی مقامات کھول دیے گئے ہیں لیکن سماجی فاصلے کی ہدایت پر سختی سے عمل کرایا جا رہا ہے۔
ورزش کے لیے جمنازیم جانے والوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہلے سے اپائنٹمنٹ لیں اور دو گھنٹے سے زیادہ وقت جم میں نہ گزاریں۔ اس کے علاوہ ماسک لگائے رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
البتہ سنگاپور میں کھیلوں کے مقابلوں، کانسرٹ، تجارتی میلوں اور مذہبی اجتماعات پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے اور سنیما بھی بدستور بند ہیں۔