رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

15:13 23.6.2020

کینیڈا: سماجی فاصلہ قائم رکھنے کی انوکھی ترکیب

14:09 23.6.2020

پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا وائرس کا علاج کتنا کامیاب؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کا علاج پلازمہ تھراپی سے آزمائشی بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلازمہ تھراپی کرونا وائرس سے متاثرہ ہر مریض کے لیے موثر نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا وائرس سے متاثرہ صرف ان مریضوں کا علاج ممکن ہے جو 'سیویئر اسٹیج' پر ہوں۔ جو مریض اس وبا سے ‘کریٹیکل اسٹیج’ پر پہنچ چکے ہوں پلازمہ تھراپی کے ذریعے ان کا علاج ممکن نہیں ہے۔

پلازمہ تھراپی کے لیے درکار پلازمہ اور اس میں موجود ‘اینٹی باڈیز’ سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ لازمی نہیں کہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے ہر فرد سے حاصل کردہ پلازمہ میں اینٹی باڈیز موجود ہوں۔ تاہم پلازمہ عطیہ کرنے والے شخص کو کسی قسم کے خطرات لاحق نہیں ہوتے اور یہ عمل 30 سے 45 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پلازمہ تھراپی کے ذریعے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے آزمائشی بنیادوں پر علاج کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان میں پلازمہ تھراپی سے متعلق کچھ غلط فہمیاں اور ابہام پائے جاتے ہیں۔ جنہیں دور کرنے کے لیے وائس آف امریکہ نے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں شعبۂ فزیالوجی اور پلازمہ تھراپی ٹرائل کے سربراہ ڈاکٹر فریدون جواد سے بات کی ہے۔

مزید پڑھیے

14:07 23.6.2020

پلازمہ تھراپی کرونا کے کن مریضوں کے لیے مفید ہے؟

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کا پلازمہ تھراپی کے ذریعے آزمائشی بنیادوں پر علاج کیا جا رہا ہے۔ کیا پلازمہ تھراپی سے کرونا کا ہر مریض صحت یاب ہو سکتا ہے؟ صحت یاب ہونے والے مریض سے پلازمہ کیسے حاصل کیا جاتا ہے اور کیا پلازمہ عطیہ کرنے والے کو کوئی خطرہ ہو سکتا ہے؟ جانتے ہیں ڈاکٹر فریدون جواد سے۔

پلازمہ تھراپی کرونا کے کن مریضوں کے لیے مفید ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:59 0:00

13:29 23.6.2020

خیبر پختونخوا کے 244 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن، پانچ لاکھ لوگ گھروں تک محدود

فائل فوٹو
فائل فوٹو

خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر حکومت نے پشاور سمیت کئی اضلاع میں رہائشی علاقے 'اسمارٹ لاک ڈاؤن' کی حکمتِ عملی کے تحت سیل کر دیے ہیں۔

صوبے کے مختلف بازاروں اور تجارتی مراکز میں ایس او پیز کی پابندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔

حکام نے کرونا کے کیسز میں اضافے کے بعد پشاور کے 14 علاقوں کو سیل کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ مردان، نوشہرہ، دیر، ہری پور، سوات، چار سدہ، مالاکنڈ، باجوڑ، صوابی، ڈیرہ غازی خان اور دیگر اضلاع کے متعدد علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔

ان علاقوں میں لوگوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ضروری اشیا اور میڈیکل اسٹورز کے علاوہ دیگر تمام دکانیں بند کی گئی ہیں۔

مجموعی طور خیبر پختونخوا کے 244 علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں کُل 2305 مریض رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کے بعد پانچ لاکھ 37 ہزار افراد گھروں تک محدود ہیں۔

خیبر پختونخوا کے محکمۂ صحت کے مطابق صوبے میں کرونا کے مریضوں کی مجموعی 22 ہزار 633 ہے جب کہ 843 اموات ہو چکی ہیں۔ صوبے کے مختلف اسپتالوں میں کرونا وائرس سے متاثرہ 805 مریض داخل ہیں جن میں سے 324 کی حالت تشویش ناک جب کہ 77 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG