کاروبار کھل رہے ہیں، کرونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے کیسز ایک بار پھر تیزی سے بڑھ رہے ہیں جس سے گزشتہ دو ماہ کے دوران وبا پر قابو پانے کی کوششیں رائیگاں ہوتی نظر آرہی ہیں۔ اس وجہ سے مختلف ممالک کی حکومتیں اور کاروبار نئی پابندیاں لگارہے ہیں۔
انڈونیشیا میں جمعرات کو کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ گئی۔ لیکن معاشی دباؤ کی شکار حکومت کاروبار کھولنے کی اجازت دینے پر مجبور ہوگئی ہے۔ آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں محکمہ صحت کے حکام کا ارادہ ہے کہ وائرس سے زیادہ متاثر علاقوں میں گھر گھر جاکر ایک لاکھ ٹیسٹ کریں۔ کیسز میں اضافے سے ملک میں وبا پر قابو پانے کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے۔
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں بھی حکام گھر گھر جاکر اسکریننگ کریں گے۔ شہر میں 70 ہزار مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے اور اسپتال دباؤ کا شکار ہیں۔ فوجی اہلکار ٹرین کی بوگیوں میں عارضی اسپتال بناکر علاج معالجہ فراہم کررہے ہیں۔ بھارت میں جمعرات کو 16922 کیسز سامنے آئے جس کے بعد کل تعداد پونے پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ملک میں لگ بھگ 15 ہزار اموات ہوچکی ہیں۔
یورپی اقوام نے یکم جولائی سے اپنی مشترکہ سرحدیں کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے اور غیر یورپی ممالک کے شہریوں کے لیے پابندیاں اٹھانے پر غور کررہی ہیں۔ یونان میں ہوابازی کے حکام علاقائی ہوائی اڈوں کے دورے کررہے ہیں جہاں پہلی تاریخ سے بین الاقوامی پروازیں بحال ہوجائیں گی۔
امریکی شہریوں کو مزید چند ہفتے یورپی یونین میں داخلے کی اجازت ملنے کی امید نہیں، کیونکہ امریکہ میں وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی یورپی شہریوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔
افریقہ سینٹر فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق، ایک روز پہلے کے مقابلے میں دس ہزار کیسز کا اضافہ ہوا۔ افریقی ڈی سی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ براعظم میں وبا کا پھیلاؤ تیز ہورہا ہے جبکہ ٹیسٹ اور علاج کی سہولتیں سنگین حد تک کم ہیں۔ کئی افریقی ممالک فیس ماسک اور دوسری حفاظتی تدابیر کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی نے ایک مہینے سے جاری رات کا کرفیو ختم کردیا ہے اور لوگوں سے کہا ہے کہ ماسک پہنا جائے اور سماجی فاصلے برقرار رکھا جائے تو نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں۔
چین کے دارالحکومت میں دو سو نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ اس کے بعد ملک بھر میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹ کیے گئے۔ گزشتہ روز 19 نئے کیسز معلوم ہوئے۔
جنوبی کوریا میں جمعرات کو 28 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی اور وہ حالات پر قابو پانے کی کوشش کررہا ہے۔ نئے کیسز میں سے بیشتر کاروبار، کلب اور عبادت گاہیں کھلنے کی وجہ سے سامنے آئے ہیں۔ لیکن ان کی تعداد فروری اور مارچ کے یومیہ کیسز کی تعداد سے خاصی کم ہے۔
کرونا سے متعلق حکومت کو کنفیوژن ہے نہ میرے کسی بیان میں تضاد: عمران خان
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے متعلق حکومت کسی کنفیوژن کا شکار نہیں۔ ہم مکمل لاک ڈاؤن کرتے تو بہت نقصان ہوتا، اس لیے کرونا سے متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن کر رہے ہیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا وائرس سے متعلق میرے کسی بیان میں تضاد نہیں، کوئی ایسا بیان دکھا دیں جس میں تضاد ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے بیانات میں مستقل مزاجی رہی ہے۔
عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارے اور نیوزی لینڈ کے حالات مختلف ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بھی لاک ڈاؤن کے نقصانات برداشت نہیں کر سکتے۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ امریکہ میں بھی لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں۔
اس سے قبل وزیرِ اعظم نے ٹائیگر فورس کے کارکنوں سے ملاقات کی اور انہیں لوگوں کو ایس او پیز سے متعلق آگاہی دینے کی ہدایت کی۔
عمران خان نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایس او پیز کی پابندی کو یقینی بنائیں تاکہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ کم ہو سکے۔ وزیرِ اعظم نے ٹائیگر فورس کے کارکنوں کو کہا کہ لوگوں کو احتیاطی اقدامات پر عمل درآمد اور اس کی اہمیت سے متعلق سمجھانا بہت ضروری ہے۔ اگر لوگ ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے تو اسپتالوں پر مزید بوجھ بڑھے گا۔
پاکستان میں شرح سود مزید ایک فی صد کم
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں شرح سود مزید 100 بیسز پوائنٹس کم کر دی ہے۔ ایک فی صد کمی کے بعد ملک میں سود کی شرح سات فی صد پر آ گئی ہے۔
کرونا وائرس کے باعث گزشتہ چار ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک نے پانچویں مرتبہ شرح سود میں کمی کی ہے۔ مارچ کے وسط میں پاکستان میں شرح سود 13 اعشاریہ 25 فی صد تھی جو اب کم ہو کر سات فی صد پر آ گئی ہے۔
نئی دہلی: کرونا کے مریضوں کی تلاش کے لیے گھر گھر سروے کیا جائے گا
بھارت نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت نئی دہلی میں کرونا وائرس کے مریضوں تلاش کے لیے شہر کی پوری آبادی کا سروے کیا جائے گا۔
نئی دہلی کی آبادی دو کروڑ 90 لاکھ کے قریب ہے جہاں حکام لوگوں کے گھروں پر جا کر ہر شہری کی صحت سے متعلق تفصیلات جمع کریں گے اور جن شہریوں میں کرونا کی علامات ہوں گی، ان کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق نئی دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سروے چھ جولائی تک مکمل کر لیا جائے گا۔
خیال رہے کہ دہلی بھارت میں کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر ہے جہاں 70 ہزار 390 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 16 ہزار 922 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو بھارت میں یومیہ کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ بھارت میں کرونا مریضوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 73 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جب کہ کل ہلاکتیں 14 ہزار 800 سے زائد ہیں۔