افغانستان میں کرونا کے 30 ہزار مریض، اموات 683 ہو گئیں
افغانستان کی وزارتِ صحت نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کرونا وائرس کے 276 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد افغانستان میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد 30 ہزار 451 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق جمعے کو وائرس سے مزید آٹھ افراد چل بسے جب کہ 132 مریض صحت یاب ہوئے۔ افغانستان میں کووڈ 19 سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 683 ہو گئی ہے۔
سوات: ریڈیو کے ذریعے طبی مشورے
سوات کی ایک ریڈیو پریزینٹر نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر اپنے اسٹوڈیو کو کلینک میں بدل دیا ہے۔ وہ اپنے پروگرام میں ڈاکٹروں کو بلا کر لوگوں کے طبّی مسائل حل کراتی ہیں۔ کرونا کے خوف سے جو لوگ اسپتال یا کلینک جانے سے کتراتے ہیں، وہ شائستہ کے ریڈیو کلینک پروگرام سے مستفید ہوتے ہیں۔ مزید دیکھیے اس رپورٹ میں
بھارت: بابا رام دیو کی دوا سے کرونا کا علاج غیر موثر قرار، پابندی عائد
بھارتی ریاست مہاراشٹر میں یوگا گرو بابا رام دیو کی جانب سے کرونا وائرس کے تجویز کردہ علاج کو جعلی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
بھارت میں یوگا گرو کہلائے جانے والے بابا رام دیو 'آیورویدک' جڑی بوٹیوں سے مختلف بیماریوں کا علاج کرنے کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔ وہ جڑی بوٹیوں سے تیار کی جانے والی ادویات کی ایک کمپنی 'پتن جلی' کے بانی بھی ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی ادویات سے مختلف بیماریوں میں مبتلا مریض 100 فی صد ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
یہ کمپنی بھارت میں گھریلو علاج معالجے اور ٹوٹکوں کے لیے مقبول ہے۔ گزشتہ منگل کو کمپنی نے دنیا بھر میں پھیلے وبائی مرض کے علاج کے لیے 'کورونل' کے نام سے تیار کردہ ایک دوا کو بہت دھوم دھام سے لانچ کیا تھا۔
اس دوا کی اس قدر تشہیر کی گئی کہ دوا خریدنے والوں کی لائنیں لگ گئی یہاں تک کہ رش کے باعث سڑکیں تک بلاک ہوگئیں جس کے بعد دارالحکومت نئی دہلی کے ساتھ ساتھ کئی ریاستی حکومتوں نے اس پر شک کا اظہار کیا تھا۔
جمعرات کو ریاست مہاراشٹر کے وزیر انیل دیش نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ریاست جعلی ادویات کی فروخت کی کسی کو بھی اجازت نہیں دے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے میں کیمیائی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
دوا کو متعارف کرائے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد وفاقی حکومت نے رام دیو کی کمپنی سے 'کورونل' کی ٹیسٹنگ اور اس کے نمونے حکومت کو دیے جانے کی ہدایات جاری کیں۔ ساتھ ہی کمپنی کو وفاقی حکومت کی جانب سے دوا کو منظوری ملنے تک اس کی تشہیر بند کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
کیا پاکستان میں کرونا ٹیسٹ کم ہونے سے مریض کم ہو رہے ہیں؟
پاکستان میں حالیہ چند روز سے کرونا وائرس کیسز میں کمی دیکھی جا رہی ہی لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا ٹیسٹس بھی بتدریج کم ہو رہے ہیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام یعنی 19 جون کے بعد سے ملک میں کرونا وائرس کے کیسز میں بتدریج کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ کرونا کے یومیہ کیسز جو 5 سے 6 ہزار رپورٹ ہورہے تھے اب ان کی تعداد ایک بار پھر اوسطاً 4 ہزار پر آ گئی ہے۔
یاد رہے کہ 26 فروری کو ملک میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد جون کے مہینے میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اور مہینے کے پہلے تین ہفتوں میں کیسز کی تعداد ایک لاکھ 4 ہزار سے زائد ریکارڈ کی گئی تھی۔ 13 جون کو پاکستان میں ایک ہی روز میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیسز ریکارڈ کیے گئے تھے جن کی تعداد 6 ہزار 825 تھی۔
اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ 19 جون کو ملک بھر میں 6 ہزار 604کیسز ریکارڈ ہونے کے بعد 20 جون کو 4 ہزار 951، 21 جون کو 4 ہزار 471، 22جون کو 3 ہزار 946 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔
ملک میں 23 جون کو 3 ہزار 892 کیسز سامنے آئے اور 24 جون کو سامنے آنے والے اعدادو شمار کے مطابق ملک بھر میں کل 4 ہزار 44 کیسز سامنے آئے۔
بعض حلقوں کی جانب سے کیسز میں کمی کو حوصلہ افزا قرار دیا جارہا ہے تاہم ڈاکٹرز اور ان کی تنظیمیں اس ڈیٹا کو زیادہ قابل اعتماد قرار نہیں دے رہیں۔
طبی ماہرین کی دلیل یہ ہے کہ ملک میں 19 جون سے ایک جانب جہاں کیسز کی تعداد کم رپورٹ ہوئی ہے تو وہیں ملک بھر میں اس عرصے کے دوران کرونا کی تشخیص کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹس کی تعداد میں بھی خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ یہ تعداد 31 ہزار سے کم ہوتی ہوتی 21 ہزار پر آ گئی ہے۔