برطانیہ کا سفری پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ
برطانیہ نے سفری پابندیوں اور قرنطینہ سے متعلق اپنی پالیسی میں نرمی کا فیصلہ کرتے ہوئے ان ممالک کی فہرست جاری کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں برطانوی شہری موسم گرما کی تعطیلات گزارنے جاسکیں گے۔
برطانیہ آنے کے خواہش مند وائرس سے کم متاثرہ ملکوں کے مسافروں کے لیے 15 روز قرنطینہ کی شرط بھی ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان ملکوں کی یہ فہرست بدھ کو جاری کی جائے گی۔
برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان ممالک میں آمدورفت دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں جہاں کرونا وائرس کیسز بہت کم ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ فرانس، اٹلی، اسپین، یونان، جرمنی، ڈنمارک، ناروے، ہالینڈ اور جزائر غرب الہند کے ملکوں کے لیے سفری پابندیوں پر نرمی پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ویتنام، سنگاپور اور ہانگ کانگ جیسے ممالک کے لیے پروازیں چلانے کا موسم گرما کے اختتام تک کوئی ارادہ نہیں ہے۔
پاکستان افغانستان کے سرحدی مقام 'غلام خان' کو بھی کھول دیا گیا
کرونا وائرس کے باعث پاکتسان اور افغانستان کے سرحدی مقام 'غلام خان' کو بھی پیدل آمدو رفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث دونوں ملکوں کے کئی شہری سرحد کے دونوں اطراف پھنسے ہوئے ہیں۔ لہذٰا اُن کی سہولت کے لیے یہ سرحد کھولی گئی ہے۔
شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر شاہد علی نے بتایا کہ کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے خوست اور میران شاہ میں دونوں ممالک کے سیکڑوں مسافر پھنس گئے تھے۔
سرحدی گزرگاہ کھلتے ہی افغانستان میں پھنسے مزدوروں کو جانچ پڑتال کے بعد پاکستان آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
افغانستان میں محصور پاکستانیوں میں ٹرانسپورٹرز، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ واپس آنے والوں کو غلام خان کے قریب قرنطینہ مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے بقول یہاں تمام سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
بھارت: کرونا کے باعث بند فلمی صنعت کو سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت
کرونا وائرس کے باعث گزشتہ چند ماہ سے تعطل کا شکار بالی وڈ فلم انڈسٹری کو شوٹنگز دوبارہ شروع کرنے کی اجازت مل گئی ہے جس کے بعد التوا کا شکار فلموں کی ریلیز بھی متوقع ہے۔
ریاستی حکومتوں نے اس حوالے سے ترمیمی ہدایات بھی جاری کردی ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ اب بڑی کاسٹ اور بڑے بجٹ والی فلمیں بھی جلد ریلیز ہوسکیں گی۔
کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ممبئی سمیت جنوبی بھارت کی علاقائی فلمی صنعت بھی گزشہ تین ماہ سے مکمل طور پر بند تھی جس کی وجہ سے نئی فلموں اور ٹی وی ڈراموں کی شوٹنگ بھی رکی ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ اسٹوڈیوز کو تالے لگ گئے تھے تاہم اب فلمی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
بھارت کی مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی میں حکام نے ایس او پیز کے تحت اسٹوڈیوز دوبار کھولنے اور شوٹنگز شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
پاکستان کی کرتار پور بارڈر عارضی طور پر کھولنے کی پیش کش
پاکستان نے کرونا وائرس کے باعث مارچ میں بند کی گئی کرتار پور راہداری عارضی طور پر 29 جون کو کھولنے کی پیش کش کی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے ہفتے کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسلام آباد نے نئی دہلی کو آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان، سابق سکھ حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی کے موقع پر 29 جون کو کرتار پور راہداری کھولنے کے لیے تیار ہے۔
دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جس طرح کرونا وائرس کی وجہ سے عارضی طور پر بند ہونے والے مذہبی مقامات کو بتدریج کھولنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پاکستان نے بھی سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور صاحب راہداری کو دوبارہ کھولنے کے انتظامات کر لیے ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے کرتار پور راہداری کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایس او پیز طے کرنے کے لیے بھارت کو بات چیت کی دعوت بھی دی ہے۔
تاہم پاکستان کے طرف سے کرتار پور راہداری کو دوبارہ کھولنے کی پیش کش کا بھارت کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
یادر ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران نے گزشتہ سال نومبر میں سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک دیو جی کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر کرتار پور راہداری کا افتتاح کیا تھا۔ یہ پاکستان کے شہر نارووال اور بھارت کے شہر گورداسپور کے درمیان سرحدی علاقے میں واقع ہے۔
راہداری کے ذریعے بھارت میں بسنے والے سکھ یاتری بغیر ویزے کے کرتار پور صاحب گوردارہ آ سکتے ہیں۔ لیکن کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کی وجہ سے پاکستان نے یہ راہداری رواں سال 16 مارچ کو عارضی طور پر بند کر دی تھی۔