رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:11 30.6.2020

روس میں کرونا کے مریض ساڑھے چھ لاکھ کے قریب

فائل فوٹو
فائل فوٹو

روس میں کرونا وائرس کے مزید چھ ہزار سے زائد کیسز سامنے آنے کے بعد کووڈ 19 کے مریضوں کی مجموعی تعداد لگ بھگ ساڑھے چھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

روس میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 6693 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی کل تعداد چھ لاکھ 47 ہزار 849 ہو گئی ہے۔

پیر کو 154 افراد کی اموات کے بعد ملک میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 9320 ہو گئی ہے۔

11:09 30.6.2020

پاکستان میں مزید 118 اموات

پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 118 مریض دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی کل تعداد 4304 تک پہنچ گئی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا کے شکار 2689 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اس طرح نئے مریضوں کی تعداد بھی گھٹ رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں 20 ہزار 930 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 2846 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

03:21 30.6.2020

کرونا وائرس ڈراونا خواب ہے، ڈراونے خواب دکھاتا ہے

امریکی ریاست ٹینیسی کی کم وکٹری ایک بستر پر مفلوج پڑی تھیں اور انھیں زندہ جلایا جا رہا تھا۔

کسی نے ان کی جان بچائی۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ ایک تفریحی بحری جہاز میں برف کا بت بنی کھڑی تھیں۔ کچھ عرصے بعد جاپان کی ایک لیبارٹری میں ان پر تجربات کیے جا رہے تھے۔ پھر اچانک بہت سی بلیوں نے ان پر حملہ کردیا۔

کم وکٹری کو یہ ڈراؤنے خواب ایک تواتر سے اس وقت آئے جب وہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے اسپتال میں داخل تھیں۔ ان خوابوں نے انھیں اس قدر پریشان کیا کہ ایک بار وہ آئی سی یو کے فرش پر گر پڑیں۔ ایک بار وینٹی لیٹر میں انھوں نے آکسیجن کی ٹیوب کھینچ ڈالی۔

کم وکٹری موت کے منہ سے واپس آئیں اور صحت یاب ہونے کے بعد انھیں اسپتال سے چھٹی مل گئی۔ لیکن ڈراؤنے خوابوں نے چھٹی نہیں دی۔ وہ کہتی ہیں کہ سب کچھ حقیقی لگتا تھا اور میں بہت ڈر جاتی تھی۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے اسپتالوں میں داخل کیے جانے والے متعدد مریضوں کو کم و بیش کم وکٹری جیسے تجربات ہو رہے ہیں۔ ہاسپٹل ڈلیریئم یا اسپتال کا خلفشار کے نام والی اس کیفیت کے شکار عموماً معمر مریض ہوتے تھے۔ ایسے مریض جو پہلے سے بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہوں۔ حالیہ چند سال میں اسپتالوں نے اس کیفیت میں کمی کے اقدامات کیے ہیں۔

لیکن کرونا وائرس نے ان تمام اقدامات پر پانی پھیر دیا ہے۔ یہ کہنا ہے ڈاکٹر ویسلے ایلی کا، جو نیش ول کے ویٹرنز ایڈمنسٹریشن اسپتال کی اس ٹیم کے رکن ہیں جس نے اسپتالوں میں ڈلیریئم کم کرنے کی رہنما ہدایات مرتب کی تھیں۔

اب یہ کیفیت کرونا وائرس کے ہر عمر کے مریضوں کو پریشان کر رہی ہے جنھیں پہلے کسی قسم کا ذہنی مسئلہ نہیں تھا۔ اسپتالوں اور تحقیق کرنے والوں کے مطابق آئی سی یو میں داخل دو تہائی سے تین چوتھائی مریضوں کو کئی طرح سے یہ تجربہ ہوتا ہے۔

بعض مریضوں کو شدید نوعیت کا خلفشار ہوتا ہے اور وہ غیر مرئی چیزوں کی وجہ سے ہذیان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کچھ مریضوں کو داخلی طور پر وہم ہوتا ہے اور وہ سکتے جیسی کیفیت میں پڑجاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو دونوں طرح کا مسئلہ ہوتا ہے۔

یہ دہشت انگیز تجربہ صرف عارضی نوعیت کا نہیں۔ اس کے اثرات دیر تک رہ سکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اسپتال میں قیام کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے، صحت یابی سست ہو جاتی ہے اور اس مریض کے ذہنی دباؤ کا شکار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کرنے والوں کا کہنا ہے کہ صحت مند معمر مریض اسپتال کے خلفشار کے بعد دوسروں کے مقابلے میں جلد بھولنے کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جلدی انتقال کر سکتے ہیں۔

عالمگیر وبا کے دوران اس کیفیت کے کئی اسباب ہیں۔ ایک یہ کہ بعض مریضوں کو طویل عرصہ وینٹی لیٹر پر رہنا پڑتا ہے، انھیں نشہ آور دوائیں دی جاتی ہے اور ان کی نیند متاثر ہوتی ہے۔ دوسرے عوامل میں مریض کا غیر متحرک رکھنا تاکہ وہ آکسیجن کی ٹیوب یا دوسری اشیا کو نہ کھنچیں اور دوسروں سے کم رابطہ شامل ہے کیونکہ ان کے اہل خانہ ان سے ملنے نہیں آ سکتے اور طبی عملہ صرف ضرورت کے وقت اور حفاظتی لباس میں قریب آتا ہے۔

کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ڈاکٹر سجن پٹیل کا کہنا ہے کہ وائرس خود اور اس کے خلاف جسم کا ردعمل بھی ذہنی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس سے بھی لوگ ڈلیریئم کا شکار ہوجاتے ہیں۔

شدید بیمار افراد جسم میں آکسیجن کی کمی اور سوزش کا شکار ہوتے ہیں جس کا اثر پھیپھڑوں کے علاوہ دماغ اور کئی دوسرے اعضا پر پڑتا ہے۔ گردوں یا جگر کو ناکارہ ہونے سے بچانے کے لیے جو دوائیں دی جاتی ہیں، وہ ڈلیریئم بڑھا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ان کے پیش نظر پہلا مقصد مریض کی جان بچانا ہوتا ہے۔ اس کوشش میں دی گئی دوائیں یا اسپتال کے حالات سے مریض خلفشار کا شکار ہو سکتا ہے لیکن اس کا علاج کرنا ثانوی درجے پر چلا جاتا ہے۔

01:58 30.6.2020

غریب اور جنگ زدہ ملکوں میں عالمی وبا سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں، ماہرین

ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے لاتعداد ملک کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کئی ممالک خانہ جنگی کا شکار ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولتوں کے فقدان کے ساتھ یہ ملک کرونا وائرس کے ساتھ دیگر مسائل میں بھی الجھے ہوئےہیں۔

کئی ماہ سے ماہرین انتباہ کر رہے ہیں کہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں صحت کا کمزور نظام کرونا وائرس کی وبا کا زور برداشت کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اگر پسماندہ اور جنگ زدہ ملکوں میں یہ وبا اور زیادہ پھیلی تو متاثرہ ملکوں میں علاج معالجے کی سہولتیں کم پڑ جائیں گی۔ ایسے حالات اب دستک دے رہے ہیں اور یہ ممالک اس حقیقت کا ادراک کر رہے ہیں کہ وہ کس طرح اس وبا کا مقابلہ کریں گے۔

جنوبی یمن میں ہیلتھ ورکرز اپنا کام اس لیے چھوڑ رہے ہیں کہ انہیں حفاظتی کٹس مہیا نہیں کی جا رہی ہیں۔ بہت سے اسپتال ناکافی میڈیکل سٹاف کی وجہ سے مریضوں کو واپس بھیج رہے ہیں۔

سوڈان کے جنگ زدہ دارفور علاقے کے کیمپوں میں کرونا وائرس سے ملتی جلتی ایک اور پراسرار وبا پھیل رہی ہے۔

پاکستان اور بھارت میں کیسیز کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ ارب آبادی والے ان دونوں ملکوں میں اس قدر غربت ہے کہ یہاں کے حکام کہہ رہے ہیں کہ مکمل ملک گیر لاک ڈاون ممکن نہیں ہے۔

لاطینی امریکہ پر نظر ڈالیں تو برازیل میں کرونا کیسیز کا سیلاب امنڈ آیا ہے۔ امریکہ کے بعد کرونا متاثرین کی تعداد برازیل میں سب سے زیادہ ہے۔ اسی طرح پیرو، چلی، ایکوڈور اور پاناما میں کیسیز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوبی افریقہ جیسے ترقی پذیر ملک میں مریض اسپتال کے کمروں باہر راہداریوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کسی بھی افریقی ملک سے زیادہ ہے، جب کہ یہاں صحت کا نظام دیگر افریقی ملکوں سے بہتر شمار کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف افریقہ کے وہ ملک ہیں، جو پہلے ہی خانہ جنگی، لڑائیوں اور دیگر مسائل کا شکار ہیں۔ ان حالات میں کرونا وائرس سے لڑنا ان کے بس کی بات نہیں۔

صحت کے عالمی ماہرین کہہ رہے کہ کرونا کو قابو میں کرنے کے لیے لاک ڈاون اور ٹیسٹنگ ضروری ہیں۔ لیکن یہ غریب ملک ان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ "ڈاکٹرز وتھ آوٹ بارڈرز" کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم جن غریب ملکوں میں کام کر رہی ہے، وہاں سب سے بڑا مسئلہ ٹیسٹنگ کٹس کی دستیابی ہے۔ مصر کو چھوڑ کر بقیہ تمام افریقی ملکوں میں ٹیسٹنگ کا نظام ناکافی ہے۔

لاک ڈاون بھی ان ملکوں میں ناممکن ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ کے مقابلے میں یہاں کا متوسط طبقہ بھی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

بھارت میں جب لاک ڈاون کیا گیا تو بڑے بڑے شہروں سے لاکھوں مزدوروں اور کارکنوں کی اندرون ملک ترک مکانی ایک سنگین انسانی بحران میں بدل گئی۔ یہ کروڑوں لوگ جب اپنے آبائی علاقوں کے لیے روانہ ہوئے تو حکومت انہیں مناسب ٹرانسپورٹ مہیا نہیں کر سکی۔ بہت سے لوگوں نے سینکڑوں میل کا پیدل سفر کیا اور درجنوں افراد راستے میں ہلاک ہو گئے۔

لاطینی امریکہ کے ملکوں میں غربت کی وجہ سے ضروری احتیاطوں پر عمل کرنا کسی طور ممکن نہیں رہا۔ لاکھوں لوگ روزانہ کی بنیاد پر کام کر کے اپنے گنجان آباد گھروں کو واپس آتے ہیں۔ ظاہر ہے ان حالات میں کوئی بھی حکومت بنیادی احتیاطی تدابیر کو لاگو نہیں کر سکتی۔

یمن میں پانچ سال سے خانہ جنگی ہو رہی ہے، اور وہاں انسانی بحران بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہوثی باغی شمال میں اس وبا سے متعلق تمام اطلاعات کو دبا رہے ہیں، جب کہ جنوب میں صحت کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔

تیز شہر کے ڈاکٹر عبدالرحمان العزراقی کہتے ہیں کہ یمن میں کرونا وائرس کے مریض گھروں میں رہتے ہوئے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

پوری دنیا میں کرونا وائرس کے شکار ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پانچ لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ عالم گیر کرونا وبا نے پوری طرح ان غریب ملکوں کو اپنی لپیٹ میں نہیں لیا ہے، مگر آنے والا وقت کوئی امید افزا تصویر نہیں پیش کر رہا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG