- By علی عمران
کرونا وبا کے چھ ماہ مکمل، دنیا نے اس وائرس کا کس طرح مقابلہ کیا؟
چین کے شہر ووہان میں گزشتہ سال دسمبر میں کرونا وائرس کیسز سامنے آئے تو شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ وبا دنیا کی معیشت، تجارت اور رہن سہن سمیت طرز زندگی کو بدل کر رکھ دے گی۔
چھ ماہ گزر جانے کے باوجود بھی دنیا اس وبا پر قابو پانے میں ناکام ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں روزانہ ہزاروں کیس رہورٹ ہو رہے ہیں اور اموات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
چھ ماہ بعد صورتِ حال یہ ہے کہ یہ وائرس پانچ لاکھ سے زائد انسانوں کی جانیں لے چکا ہے۔ ایک کروڑ سے زائد کیسز اور عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے جب کہ دنیا کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ ایئر لائنز، سیاحت، تعلیم، کاروبار غرض کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو اس وائرس کی زد میں نہ آیا ہو۔
چین سمیت دنیا کے کئی ملکوں نے کافی حد تک اس وبا پر قابو پا لیا ہے لیکن دنیا کے کئی ملک خصوصاً امریکہ، برازیل، بھارت، پاکستان اور لاطینی امریکہ کے کئی ملک اب بھی اس وائرس کے پھیلاؤ کی زد میں ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید 75 افراد ہلاک، 4 ہزار نئے کیسز
پاکستان میں بدھ کو کرونا وائرس سے مزید 75 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 4110 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی۔
ان میں دارالحکومت اسلام آباد اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اعدادوشمار شامل نہیں اس لیے اموات اور کیسز میں اضافے کا خدشہ ہے۔
محکمہ صحت پنجاب کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں 1478 افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے جبکہ 22 مریض دم توڑ گئے۔ 778 افراد صحت یاب بھی ہوئے۔ محکمہ سندھ صحت کا کہنا ہے کہ دن بھر میں 2139 کیسز کی تصدیق ہوئی اور 29 جانیں ضائع ہوگئیں۔ 1703 افراد کو شفا مل گئی۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق 340 نئے مریضوں کا علم ہوا اور 22 افراد کا انتقال ہوگیا۔ صوبے میں 517 مریض تندرست ہوگئے۔ بلوچستان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا؛ لیکن 132 نئے مریضوں کا پتا چلا۔ دوگنا سے زیادہ یعنی 280 مریضوں کو صحت مل گئی۔
گلگت بلتستان میں 21 افراد وائرس میں مبتلا ہوئے جبکہ دو مریض چل بسے۔ 18 افراد نے وائرس کو شکست دے دی۔ بدھ کو مجموعی طور پر 3296 افراد کے صحت یاب ہونے کی خبر ملی جس کے بعد کل تعداد 104098 تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں کیسز کی مجموعی تعداد 217597 ہوچکی ہے، جبکہ 4470 اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔ ملک میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ دو ہفتے پہلے کے مقابلے میں کم کیے جارہے ہیں۔ لیکن ان کی مجموعی تعداد 13 لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔
فائزر اور بایو این ٹیک کی ممکنہ ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج
امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن فرم بایو این ٹیک نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ایک نئی ممکنہ ویکسین کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو ویکسین لگائی گئی، ان کے جسم میں ایک ماہ کے اندر اینٹی باڈیز کی سطح، شفایاب ہوجانے والے مریضوں کے خون جتنی یا اس سے بھی زیادہ پائی گئی۔
یہ آزمائش مختصر پیمانے کی تھی جس میں 18 سے 55 سال کی عمر کے 45 صحت مند افراد کو شامل کیا گیا۔ ان افراد نے انجکشن کی جگہ پر درد اور ہلکے بخار کی شکایات بیان کیں جو ویکسین تجربات میں معمول کے اثرات تھے۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ نہیں کہا جاسکتا کہ مدافعتی ردعمل کتنا عرصہ رہے گا اور انسانوں کو وائرس سے تحفظ کے لیے کس سطح کی قوت مدافعت درکار ہوگی۔
فائزر اور بایو این ٹیک کرونا وائرس کی چار ممکنہ ویکسینز پر کام کررہی ہیں۔ بدھ کو جس ویکیسن کے بارے میں بتایا گیا اس کا نام بی این ٹی 162 بی ون ہے اور باقی تینوں ممکنہ ویکسینز کے مقابلے میں اس پر زیادہ پیشرفت ہوچکی ہے۔
تحقیق کرنے والے ابتدائی ڈیٹا دیکھ کر بہتر ممکنہ ویکسین کا انتخاب کریں گے اور اس کی مقدار طے کرنے کے بعد وسیع پیمانے پر آزمائش کریں گے جس میں 30 ہزار افراد کو شامل کیا جائے گا۔
اگر اس منصوبے کی منظوری مل گئی تو اگلی آزمائش اسی مہینے کے آخر میں شروع کی جاسکتی ہے۔
فائزر اور بایو این ٹیک کا کہنا ہے کہ وہ سال کے آخر تک ویکسین کی 10 کروڑ اور 2021 کے آخر تک ایک ارب 20 کروڑ خوراکیں بناسکتے ہیں۔
کرونا وائرس صورت بدل رہا ہے، زیادہ مہلک ہورہا ہے
امریکہ کے شہر شکاگو میں کرونا وائرس کے اولین کیسز جنوری میں ظاہر ہوئے تو ان کی جینیاتی صورت ویسی تھی جیسی چند ہفتے پہلے چین میں جنم لینے والے جرثومے کی۔
لیکن جب ڈاکٹر ایگون اوزر نے مقامی مریضوں کے نمونے جانچنا شروع کیے تو انھیں معلوم ہوا کہ وائرس کا جینیاتی ڈھانچہ تبدیل ہوا ہے۔
ایگون اوزر نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن میں وبائی امراض کے ماہر ہیں۔ انھوں نے دیکھا کہ وائرس میں بار بار تبدیلی ہورہی ہے۔ اس تبدیل شدہ صورت کا تعلق یورپ اور نیویارک میں پھوٹنے والی وبا سے تھا اور اس نے آخرکار شکاگو کو لپیٹ میں لے لیا۔ مئی تک ایگون اوزر نے جتنے نمونے جمع کیے، ان میں سے 95 فیصد میں وہی تبدیل شدہ وائرس پایا گیا۔
ایک نظر دیکھنے سے یہ تبدیلی غیر اہم لگتی ہے۔ وائرس کی سطح پر ایک پروٹین کو بنانے میں 1300 امینو ایسڈز استعمال ہوتے ہیں۔ تبدیل شدہ وائرس میں ان میں سے صرف ایک یعنی نمبر 634 کی جینیاتی ہدایات پر فرق پڑا ہے۔ اس وجہ سے اسپارٹک ایسڈ یا ڈی بدل کر گلیسین یا جی میں بدل گیا ہے۔
لیکن اس کا مقام اہم ہے کیونکہ یہ تبدیلی جینوم کے اس حصے میں ہوئی ہے جہاں اہم ترین اسپائیک پروٹین کی معلومات ذخیرہ ہوتی ہے۔ یہ وہ ڈھانچہ ہے جو کرونا وائرس کو تاج جیسی صورت دیتا ہے اور اسے نقب لگانے والے چور کی طرح انسانی خلیوں میں گھسنے کی اجازت فراہم کرتا ہے۔
عام ہوجانے والا وائرس اسی تبدیل شدہ صورت کا ہے۔ دنیا بھر میں تحقیق کرنے والوں نے مشترکہ ڈیٹابیس میں جو 50 ہزار نمونے جمع کیے ہیں ان میں سے 70 فیصد اسی تبدیل شدہ وائرس کے ہیں۔ اس کا پورا ڈی 614 جی ہے لیکن سائنس داں اسے صرف جی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔