امریکہ: ٹیکساس میں ماسک پہننا لازم قرار
امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں جمعرات کو لگ بھگ آٹھ ہزار افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد گورنر گریگ ایبٹ نے شہریوں کو ماسک پہننے کی سختی سے تاکید کی ہے۔
گورنر گریگ نے جمعرات کو ایک ایگزیکٹو آرڈر بھی جاری کیا ہے جس کے مطابق جن کاؤنٹیز میں کرونا وائرس کے 20 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں وہاں ہر شخص پر ماسک پہننا لازم ہے۔
امریکہ میں کرونا وائرس کی نئی لہر کو دیکھتے ہوئے متعدد ریاستوں کے گورنرز نے ایک ماہ کے سخت لاک ڈاؤن کے بعد نئے کیسز میں اضافے کے بعد ریاستوں کو کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی پر غور شروع کر دیا ہے۔
امریکہ میں ریکارڈ 55 ہزار سے زیادہ کیسز
امریکہ میں مسلسل دوسرے روز کرونا وائرس کے ریکارڈ کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متعدد ریاستوں کے گورنرز نے معمولاتِ زندگی بحال کرنے کا فیصلہ منسوخ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
امریکہ میں جمعرات کو 55 ہزار 274 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ عالمی وبا کے آغاز سے اب تک امریکہ یا دنیا کے کسی بھی ملک میں ایک روز کے دوران رپورٹ ہونے والے کیسز کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔
امریکہ میں اس وبا کا شکار ہونے والے تقریباً ایک لاکھ 29 ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں اور 27 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔
عالمی سطح پر ایک روز کے دوران اب تک برازیل میں 19 جون کو 54 ہزار 771 ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ تاہم اب جمعرات کو امریکہ میں یومیہ کیسز کا ریکارڈ بنا ہے۔
'پالتو جانوروں سے انسان میں کرونا کی منتقلی کا رسک کم ہوتا ہے'
عالمی ادارۂ صحت کی چیف سائنس دان سومیا سوامینتھن نے کہا ہے کہ پالتو جانوروں سے انسانوں میں کرونا وائرس کی منتقلی کا بہت کم خطرہ ہوتا ہے۔
انہوں نے جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ اب تک تیندوے، فیریٹ بلی نما جانور اور شیر میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ان کے بقول پالتو جانوروں سے کرونا وائرس کی منتقلی سے متعلق تشویش پائی جاتی ہے لیکن ایسا بہت کم کیسز میں ہوتا ہے۔
کرونا کی وبا امریکہ اور یورپ کے تعلقات پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے؟
کرونا وائرس کی عالمی وبا تھمنے میں نہیں آرہی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی خوش امیدی ظاہر کی جارہی ہے، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے سمجھوتہ کرتے ہوئے یہ غور کیا جارہا ہے کہ اس کے ساتھ کس طرح گزارا کیا جاسکتا ہے؟
بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ روزمرہ کے معمولات کو بتدریج کس طرح بحالی کی طرف لے جایا جاسکتا ہے، تاوقتکہ اس سے بچاؤ کی کوئی ویکسین دریافت نہیں کرلی جاتی۔
بہت سے ممالک جن میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملک دونوں شامل ہیں، کرونا وائرس کی وبا سے معیشت پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کے پیش نظر نہایت پریشان ہیں اور وہ متبادل لائحہ عمل پر غور کررہے ہیں۔