بداحتیاطی کریں گے تو وائرس پھیلے گا: اسد عمر
پاکستان میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے کیے قائم کیے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ عیدالضحٰی پر عوام کو احتیاط کرنا ہو گی۔
اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی جس کے لیے وہ عوام کے شکر گزار ہیں۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ عیدالفطر پر بے احتیاطی کی گئی جس سے وائرس پھیلا، لہذٰا عیدالاضحٰی پر لوگوں کو احتیاط کرنا ہو گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ماسک پہننا، مصافحہ اور بغل گیر نہ ہونا اور فاصلہ رکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
امریکی شہریت کے لیے حلف برداری کی ڈرائیو تھرو تقریبات، ایک انوکھا تجربہ
امریکہ میں نئے امریکی شہریوں کے لئے حلف برداری کی تقریب کا موقع ایک نہایت یادگار لمحہ ہوتا ہے۔ وہ برسوں اس کے لئے جتن کرتے ہیں اور اس بات کے متمنی ہوتے ہیں کہ انھیں امریکہ کی باضابطہ شہریت حاصل ہوجائے۔
ان میں بہت سے وہ لوگ ہوتے ہیں جو نہایت نامساعد حالات میں اپنے آبائی وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہوتے ہیں اور پناہ لینے کے لئے نئی جگہ کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں۔
ایسے لوگوں میں لاکھوں کی تعداد میں وہ شامل ہیں جو دنیا کے مختلف علاقوں، خاص کر مشرق وسطیٰ میں خانہ جنگی اور جنگ و جدل کی وجہ سے اپنا گھر بار لٹانے اور جانی نقصان اٹھانے کے بعد در بدر ہوگئے ہیں۔ ان میں سے بہت سے بے خانماں افراد نے جن میں عورتیں اور بچے شامل ہیں، امریکہ کا بھی رخ کیا ہے۔
نئے امریکی شہریوں کے لئے حلف برداری کی تقریب جو لاس اینجلس میں منعقد ہوتی ہے، وہ امریکہ میں سب سے بڑی شمار کی جاتی ہے۔
کرونا کی عالمی وبا نے، جہاں زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے اور بدستور اس کی تباہ کاریاں جاری ہیں، امریکی شہریت کے لئے حلف برداری کی تقریبات بھی اس سے متثنیٰ نہیں ہیں۔ وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات کی وجہ سے تارکین وطن کے دفاتر کو ایسی تقریبات ملتوی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
امریکہ کا پاکستان کو 100 وینٹی لیٹر کا تحفہ
امریکہ نے پاکستان کو کرونا وائرس کے خلاف لڑنے کیلئے 100 میڈیکل وینٹی لیٹر عطیہ کئے ہیں۔ جمعہ کے روز امریکی سفارتخانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ امداد صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کیلئے ایک فراخدلانہ پیشکش ہے جو اس مرض سے نمٹنے کیلئے ضروری اور اہم ہے۔ اور یہ کہ امریکہ عالمی وبا کے خلاف پاکستان کی ہنگامی کاوشوں کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کی لپیٹ میں آنے والوں کی کُل تعداد دو لاکھ بائیس ہزار ہے، جب کہ اس وبا سے اب تک 4600 کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید نے جمعرات کے روز ایک آن لائین فورم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کرونا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں میں ہمیشہ فراخدلانہ امداد کرتا رہا ہے اور پاکستان امریکہ کے دس ترجیحی ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔
امریکہ پہلے ہی پاکستان کو کرونا وائرس کی لیبارٹریوں میں جانچ، مرض کی تشخیص اور مریضوں کی دیکھ بھال کی صلاحیت بڑھانے اور وبا سے متعلق دیگر چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے، تقریباً 27 ملین ڈالر کی امداد دے چکا ہے۔
امریکی سفارتخانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے، پاکستان کی جانب سے دواؤں اور دیگر اشیا کے عطیہ کا بھی امریکہ شکر گزار ہے۔