'اسکول کھولنے کے لیے قابلِ عمل سفارشات جاری کی جائیں گی'
امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ سینٹرز فور ڈیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) اسکول کھولنے سے متعلق نئی رہنما ہدایات جاری کرے گا۔ اس سے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ادارے پر تنقید کی تھی کہ اس کی سفارشات بہت مہنگی اور ناقابلِ عمل ہیں۔
مائیک پینس نے بدھ کو کہا کہ سی ڈی سی آئندہ ہفتے نیا بیان جاری کرے گا جس سے اس معاملے میں ہدایات زیادہ واضح ہوں گی۔ محکمہ تعلیم میں وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس ٹاسک فورس کی بریفنگ کے دوران پینس کا کہنا تھا کہ صدر ان سفارشات کو بہت سخت نہیں دیکھنا چاہتے۔
سی ڈی سی کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے زور دیا کہ ادارے کی رہنما ہدایات کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے ذاتی طور پر اور میرے ادارے کو بھی بہت مایوسی ہو گی اگر لوگ ان ہدایات کو بہانہ بنا کر اسکول نہ کھولیں۔
سی ڈی سی نے اسکولوں کے لیے متعدد سفارشات پیش کی تھیں جن میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ، طلبہ کو چھوٹے گروپس میں تقسیم کرنا، کیفے ٹیریا کے بجائے کلاسوں میں لنچ فراہم کرنا اور اسکولوں میں مشترکہ استعمال کی اشیا کی تعداد میں کمی شامل تھی۔
امریکہ میں اسکول کھولنے کی تیاریاں
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ زور دے رہے ہیں کہ تمام تعلیمی ادارے ستمبر میں فال سیمسٹر کے لیے کھول دیے جائیں۔
اس بارے میں کوئی فیصلہ ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب امریکہ میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد تیس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، جب کہ اموات ایک لاکھ بتیس ہزار کے قریب ہیں۔
امریکی ٹیلی ویژن پر ایک نیوز بریفنگ میں وزیرِ تعلیم بیٹسی ڈیوس نے کہا کہ اسکول کھولنا اب ضروری ہو گیا ہے اور زیرِ غور یہ نہیں کہ آیا سکول کھولے جائیں یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیسے کھولے جائیں؟
اسی دوران امریکہ میں سنٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ڈئیریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے کہا کہ ہمارا مقصد امریکہ میں سب کو محفوظ رکھنا ہے اور ہماری ہدایات کو اسکول کھولنے کی راہ میں رکاوٹ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔
پاکستان میں مزید 61 اموات
پاکستان میں کرونا وائرس کے شکار مزید 61 مریض دم توڑ گئے ہیں اور گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 3359 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
آسٹریلوی شہر میلبورن میں لاک ڈاؤن
آسٹریلیا میں کرونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشے کے پیشِ نظر ملک کے دوسرے بڑے شہر میلبورن میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
میلبورن کے حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چھ ہفتوں تک گھروں میں ہی رہیں اور سماجی فاصلے سمیت کرونا وائرس کی دیگر احتیاط پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
میلبورن شہر آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریا میں واقع ہے۔ اس ریاست سے ملنے والی سرحد کو پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا۔
بدھ کو وکٹوریا میں 134 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ کیسز کی یہ تعداد حالیہ چند روز کے دوران رپورٹ ہونے والے کیسز کے مقابلے میں کم ہے لیکن دیگر ریاستوں کے مقابلے میں اس تعداد کو زیادہ قرار دیا جا رہا ہے۔
آسٹریلیا کی شمالی ریاست کوئنز لینڈ نے وکٹوریا سے آنے والے شہریوں پو پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وکٹوریا سے آنے والے افراد پر 14 دن تک ہوٹل میں قرنطینہ میں وقت گزارنے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔