پاکستان میں 49 اموات، دو ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 49 مریض دم توڑ گئے ہیں اور دو ہزار 85 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی کل تعداد 5475 ہو گئی ہے اور کیسز کی تعداد ایک لاکھ 59 ہزار 995 تک پہنچ گئے ہیں جن میں سے ایک لاکھ 83 ہزار 737 مریض صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر کی مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج 1895 مریضوں کی حالت تشویش ناک بھی ہے۔
بھارت میں کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی
بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے۔
وزارتِ صحت کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بڑے شہروں سے لاک ڈاؤن ختم کیے جانے کے بعد چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں کرونا وائرس کے متاثرین میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔
بھارت امریکہ اور برازیل کے بعد کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا تیسرا ملک ہے۔ یہاں اب تک 25 ہزار 602 افراد کرونا کے سبب لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
ریاستی حکومت نے وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے دوبارہ پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں اور کئی علاقوں کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
امریکہ میں ریکارڈ 77 ہزار سے زیادہ کیسز
امریکہ میں ایک روز کے دوران 77 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو اب تک یومیہ کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
امریکہ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کرونا کے شکار مزید 969 مریض انتقال کر گئے ہیں۔ دس جون کے بعد سے اب تک ہلاکتوں کی بھی یہ زیادہ تعداد ہے۔
جمعرات کو تمام اموات ریاست فلوریڈا، ساؤتھ کیرولائنا اور ٹیکساس میں رپورٹ ہوئی ہیں جہاں ایک روز میں ریکارڈ کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکہ میں اب تک ایک لاکھ 38 ہزار افراد کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ماہرین مزید اموات کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
حال ہی میں امریکہ میں کرونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جب کہ بعض ریاستوں میں اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
ویکسین تیار کرنے والے اداروں کے خلاف روس کے سائبر حملوں پر اظہار تشویش
امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کے حکام نے جمعرات کو الزام لگایا کہ کرونا وائرس کی ویکسین اور طبی علاج معالجے کے تحقیقی کام کی چوری کی کوشش کرتے ہوئے، روس نے مغربی دواساز کمپنیوں اور تعلیمی اداروں پر سائبر ہیکنگ کے بڑی سطح کے حملے جاری رکھے ہیں۔
ایک مشترکہ بیان میں ان تینوں ملکوں کی حکومتوں نے کہا ہے کہ ہیکنگ کی یہ کارروائیاں فروری میں شروع ہوئیں اور تواتر سے جاری ہیں۔
برطانیہ کا سائبر سیکیورٹی سینٹر، سائبر سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے؛ اور امریکہ اور کینیڈا کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں رہتا ہے۔ ایک بیان میں سینٹر نے ہیکنگ کرنے والے روسی گروہوں، جنھیں 'اے پی ٹی 29' کا نام دیا گیا ہے، جس گروہ کو 'کوزی بیئر' بھی کہا جاتا ہے، مبینہ طور پر ہیکنگ میں ملوث ہے۔