کرونا وائرس کی ویکسینوں کے مریضوں پر مثبت اثرات
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ایک کروڑ 47 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں اور اس وبا سے اب تک ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چھ لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف محفوظ اور مؤثر ویکسین کی تیاری میں پیش رفت ہوئی ہے۔
اب تک تجرباتی طور پر دو ویکسینیں تیار کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک برطانیہ کی 'آکسفورڈ یونیورسٹی' اور برطانوی-سویڈش دوا ساز کمپنی 'ایسٹرا زینیکا' کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔
دوسری ویکسین چینی دوا ساز کمپنی 'کین سینو بائیو لوجکس' نے تیار کی ہے۔ برطانیہ کے میڈیکل جرنل 'دی لینسٹ' میں پیر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان دونوں ویکسینوں کی مریضوں پر جانچ کے دوران کرونا کے مریضوں کے مدافعتی نظام میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں۔
افغانستان میں کرونا کے 35 ہزار سے زائد کیسز، 23 ہزار مریض صحت یاب
افغانستان کی وزارتِ صحت نے منگل کو 'کووڈ 19' کے 112 نئے کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں سامنے آنے والے ان نئے کیسز کے ساتھ ملک میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 35 ہزار 615 ہو گئی ہے۔
وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 1186 ہو چکی ہے جب کہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 23 ہزار سے زائد ہے۔
عید الاضحیٰ کے موقع پر عمان کا سفری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
عمان نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر تمام ریاستوں میں 25 جولائی سے آٹھ اگست تک سفری پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عمان کی وزارتِ صحت نے اس اقدام کے حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے مکمل لاک ڈاؤن قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق عمان میں 25 جولائی سے آٹھ اگست تک شام سات بجے سے صبح چھ بجے تک کرفیو بھی عائد کیا جائے گا جو عیدالاضحیٰ کی چھٹیوں کے دوران بھی نافذ رہے گا۔
کرفیو کے اوقات میں تمام دکانیں اور عوامی مقامات بند رہیں گے۔
واضح رہے کہ عمان کی آبادی چار کروڑ 70 لاکھ کے لگ بھگ ہے جہاں کرونا کیسز کی تعداد 69 ہزار 887 ہو چکی ہے جب کہ 337 اموات بھی ہوئی ہیں۔
شمالی کوریا کا ملک میں کرونا کیس نہ ہونے کے باوجود ویکسین بنانے کا اعلان
شمالی کوریا کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کا تاحال کوئی کیس سامنے نہیں آیا لیکن حیران کن طور پر پیانگ یانگ نے ویکسین بنانے کی دوڑ میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ، برطانیہ، چین اور دیگر ممالک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کے ٹرائلز کا سلسلہ جاری ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری کمیشن برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کا سلسلہ جاری ہے جب کہ بہت جلد اس کی انسانوں پر آزمائش کا عمل بھی شروع ہو جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرونا کا کوئی کیس نہ ہونے کے باوجود ویکسین کی تیاری کے ذریعے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان عوام کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ ہر طرح کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔