رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:03 28.7.2020

افریقہ کے 13 ممالک میں ساڑھے چار کروڑ افراد کو خوارک کی قلت کا سامنا

سدرن افریقن ڈویلپمنٹ کمیونٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق افریقہ کے جنوبی 13 ممالک میں چار کروڑ 50 لاکھ افراد خشک سالی، سیلاب اور کرونا وائرس کے باعث خوارک کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں

رپورٹ کے مطابق خوراک کی کمی کا سامنا کرنے والوں میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 10 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث عائد کی گئی پابندیوں سے کاروباری سرگرمیاں، نوکریوں کے مواقع اور بیرونِ ملک سے ترسیلات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

16:30 28.7.2020

افغانستان میں کرونا کے 36 ہزار کیسز، 25 ہزار سے زائد صحت یاب

افغانستان کی وزارتِ صحت نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 'کووڈ 19' کے 105 نئے کیسز رپورٹ کیے ہیں۔ افغانستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 36 ہزار 368 ہو گئی ہے۔

افغانستان میں وائرس کی ابتدا کے بعد سے اب تک عالمی وبا سے مرنے والوں کی تعداد 1270 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 25 ہزار 358 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔

16:23 28.7.2020

برطانیہ: پالتو بلی میں کرونا وائرس کی تشخیص

فائل فوٹو
فائل فوٹو

برطانیہ میں ایک پالتو بلی میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جسے طبی ماہرین ملک میں کسی بھی جانور میں رپورٹ ہونے والا وائرس کا پہلا کیس قرار دے رہے ہیں۔

مذکورہ بلی کا گزشتہ ہفتے اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ لیبارٹری میں کرونا کا ٹیسٹ کیا گیا تھا جس کے بعد اس میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔

جنوبی انگلینڈ کی اس چھ سالہ بلی میں میں ابتداً فلو کی علامات تھیں۔ بعد ازاں مذکورہ بلی سمیت درجنوں بلیوں کے نمونے وائرس کے شبہے پر گلاسکو سینٹر فار وائرس ریسرچ میں بھجوائے گئے۔ جہاں اس میں سارس کی تشخیص ہوئی۔ جس کے بعد اینیمل پلانٹ ہیلتھ لیبارٹری میں کیے گئے ٹیسٹ کے بعد بلی میں کرونا کی تصدیق ہوئی۔

چھ سالہ بلی کو سانس میں رکاوٹ اور نزلے کی شکایت تھی۔ البتہ وہ چند دن بعد مکمل طور پر صحت یاب ہو گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ برطانیہ میں کرونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں پھیلا۔ بلکہ مذکورہ بلی میں وائرس اس کے مالک سے منتقل ہوا جنہیں مئی میں کرونا وائرس ہوا تھا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اب تک بہت کم جانوروں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ لہذٰا یہ تشویش کی بات نہیں ہے۔

مزید پڑھیے

15:16 28.7.2020

پنجاب میں عید الاضحٰی پر کون سے کاروبار کھلے رہیں گے؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

حکومتِ پنجاب نے عیدالاضحیٰ کے موقع پر صوبہ بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر تاجروں میں ابہام پایا جاتا ہے کہ کون کون سے کاروبار کھلے رہیں گے اور کون سے بازار بند ہوں گے۔

اِس حوالے سے محکمۂ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر پنجاب نے ان کاروباروں کی فہرست جاری کر دی ہے جنہیں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران کھلا رکھنے کی اجازت ہو گی۔

محکمۂ ہیلتھ کیئر پنجاب کے مراسلے کے مطابق صوبے میں تمام طبّی مراکز، فارمیسیز، میڈیکل اسٹور، ٹائرپنکچر کی دکانیں، آٹا چکیاں، پوسٹل/ کوریئر سروسز کے دفاتر کھلے رہیں گے۔

اِس کے علاوہ اشیائے خور و نوش کی دکانیں، بیکریاں اور کریانہ اسٹور، پھلوں اور سبزیوں کی دکانیں، گوشت اور دودھ کی دکانیں اور تندور بھی کھلے رہیں گے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بینک، کرنسی ایکسچینج، ٹیلی کام فرنچائزز، ڈرائی کلینر، درزی وغیرہ کی دکانیں بھی کھولنے کی اجازت ہو گی جب کہ آٹو ورک شاپس، تعمیراتی کام سے منسلک بلڈنگ مٹیریل، شیشہ، ایلومینیم وغیرہ کی دکانیں بھی کھلی رہ سکیں گی۔

ہوٹلوں اور ریستورانوں پر صرف ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی اجازت ہو گی جب کہ ایل پی جی گیس ک دکانیں، فلنگ پلانٹس، زراعت مشینری، پرنٹنگ پریس، کال سینٹرز (50 فیصد عملے کے ساتھ)، ورک شاپس اور اسپیئر پارٹس کی دکانیں بھی کھلی رہیں گی۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیور ہاسٹلز، پیٹرول پمپ اور آئل ڈپو 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔ بین الاضلاع اور شہروں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ 24 گھنٹے چلتی رہے گی اور تمام کاروبار مقرر کیے گئے اوقات کار کے دوران ہی کام کرسکیں گے۔

اسمارٹ لاک ڈاؤن کے نوٹی فکیشن کا اطلاق عیدالاضحٰی کے بعد پانچ اگست تک ہو گا۔

حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کے فیصلے پر تاجر تنظیموں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے کاروبار کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔

تاجر تنظیموں کے مطابق عید کے موقع پر بازاروں کو بند کرنے سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے اور چھوٹے دکان دار زیادہ متاثر ہوں گے۔ صدر ایوان صنعت وتجارت عرفان اقبال شیخ کہتے ہیں کہ عیدالاضحٰی کے موقع پر کاروبار بند کرنے سے تاجر برادری کو مالی نقصان ہوگا۔ لہٰذا حکومت قواعد و ضوابط کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG