بھارت میں مزید 57 ہزار سے زائد کیس رپورٹ
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے ریکارڈ 57 ہزار 118 کیسز سامنے آئے جب کہ مزید 764 افراد مہلک وبا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
بھارت میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 16 لاکھ 95 ہزار سے بڑھ گئی ہے جب کہ مجموعی طور پر 36 ہزار 511 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف بھارت میں اس وبا سے اب تک 11 لاکھ افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
بھارت میں اب تک ایک کروڑ 93 لاکھ سے زائد افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جب کہ مثبت کیسز کی شرح 8.57 فی صد ہے۔
جمعے کو دنیا بھر میں ریکارڈ دو لاکھ 92 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جمعے کو کرونا وائرس کے ایک دن میں ریکارڈ دو لاکھ 92 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے جبکہ اس وبا سے 6 ہزار 812 افراد ہلاک ہوئے۔
اس سے قبل 24 جولائی کو دنیا میں ایک ہی روز دو لاکھ 84 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے تھے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ امریکہ، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ میں زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وائرس سے 6812 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں کرونا وائرس سے ایک دن میں ہونے والی ہلاکتوں کی اوسطً تعداد 4600 تھی جو جولائی میں 5200 ہلاکتوں تک پہنچ گئی ہے۔
دنیا بھر میں اب تک کرونا وائرس سے 1 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں جب کہ اس مہلک وبا سے لگ بھگ 6 لاکھ 75 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ممبئی کی غریب آبادیوں میں کرونا وائرس کے خلاف اجتماعی مدافعت پیدا ہو رہی ہے
ممبئی کی غریب آبادیوں میں کیے گئے ایک حالیہ سروے سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں رہنے والوں کی نصف سے زیادہ تعداد میں کوویڈ 19 کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا ہو گئی ہیں۔
آبادی کے ایک بڑے حصے میں اینٹی باڈئز کا سامنے آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کے انتہائی گنجان آباد علاقے، جو کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں، وہاں ممکنہ طور پر اجتماعی مدافعت (herd immunity)پیدا ہو رہی ہے جو وہا کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب کہ غریب آبادیوں میں نادانستگی میں اجتماعی مدافعت پیدا ہونے کا امکان ہے، عہدے داروں نے اسے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے ایک طریقے کے طور پر یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجتماعی مدافعت کبھی بھی ہماری چوائس نہیں رہی، اور یہ محض اس وبا کے پھیلاؤ کا فطری نتیجہ ہے۔
اجتماعی مدافعت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی آبادی کا ایک بڑا حصہ اپنے اندر وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز پیدا کر لیتا ہے، اور وہ وبا کا پھیلاؤ روکنے میں ایک دیوار کا کام کرتی ہے۔
حالیہ عرصے میں بھارت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں 16 لاکھ سے زیادہ افراد اس وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ متاثرین کی عالمی فہرست میں امریکہ اور برازیل کے بعد بھارت تیسرے نمبر پر ہے۔
ممبئی میں کیے گئے سروے سے یہ پتا چلا ہے کہ شہر کے متمول حصے کی نسبت جہاں 16 فی صد آبادی رہتی ہے، تین غریب آبادیوں میں 57 فی صد افراد وائرس میں مبتلا ہوئے ہیں اور ان کے اینٹی باڈیز ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وائرس غریب آبادیوں میں زیادہ تیزی سے پھیلا ہے جہاں ایک ایک کمرے میں 8 سے 10 تک افراد رہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے سماجی فاصلہ قائم رکھنا ممکن نہیں ہے۔
اس تصویر کا ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ اگرچہ ان آبادیوں کے اکثر رہائشی کرونا وائرس میں مبتلا ہوئے لیکن ان میں وبا کی علامتیں ظاہر نہیں ہوئیں اور اگر کسی میں ہوئیں بھی تو وہ بہت معمولی نوعیت کی تھیں۔ اس وجہ سے ان کا کبھی کرونا ٹیسٹ نہیں کیا گیا اور نہ ہی یہ افراد وبا سے متاثرہ افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے۔
ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف فنڈیمنٹل ریسرچ کے ایک پروفیسر اولاس کولتھر کہتے ہیں کہ ہم محتاط انداز میں یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ غریب آبادیاں جلد یا بدیر عالمی وبا کے خلاف اجتماعی مدافعت کی سطح پر پہنچ جائیں گی، لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ یہ اجتماعی مدافعت کب تک برقرار رہ سکے گی۔
ممبئی کا شمار بھارت کے کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں ہوتا ہے، لیکن اب وہاں اس کا زور ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے۔ اور سب سے اطمینان بخش پہلو یہ ہے کہ شہر کی غریب آبادیوں میں جہاں 50 لاکھ سے زیادہ افراد رہتے ہیں، حالیہ دنوں میں وائرس کا پھیلاؤ مسلسل گر رہا ہے۔
ویتنام میں کرونا سے پہلی ہلاکت: سرکاری میڈیا
ویتنام کے سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملک میں کرونا وائرس کے باعث جمعے کو پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
ویتنام میں 99 روز کے طویل وقفے کے بعد چند روز قبل دوبارہ وائرس نے سر اُٹھایا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وائرس سے ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 70 سال اور گردے کے امراض کی وجہ سے اسپتال میں زیرِ علاج تھے جہاں اُن میں کرونا کی بھی تشخیص ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں لگ بھگ چھ مریضوں کی کرونا کے باعث حالت تشویش ناک ہے۔
ویتنام میں جمعے کو کرونا کے مزید 45 کیس رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ ملک بھر میں وائرس کے مجموعی کیس 500 سے بڑھ چکے ہیں۔