رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

10:55 5.8.2020

بھارت میں 52 ہزار سے زائد نئے کیسز، 857 ہلاکتیں

فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 52 ہزار 509 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ 857 افراد اس مہلک وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔

بھارت میں اس وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 19 لاکھ آٹھ ہزار 255 ہو گئی ہے۔ جن میں سے پانچ لاکھ 86 ہزار 244 افراد زیر علاج ہیں جب کہ 12 لاکھ 82 ہزار 216 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

کرونا وائرس سے بھارت میں اب تک 39 ہزار 795 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

10:52 5.8.2020

آسٹریلیا: ریاست وکٹوریہ میں ریکارڈ کیسز، 15 اموات

فائل فوٹو
فائل فوٹو

آسٹریلیا کی دوسری بڑی گنجان آباد ریاست وکٹوریہ میں چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 725 ریکارڈ کیسز سامنے آئے ہیں۔ جب کہ اس مہلک وبا سے 15 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے کرونا وائرس کے رپورٹ کیے جانے والے کیسز کی تعداد 723 تھی۔

آسٹریلیا کے دوسرے بڑے شہر میلبورن میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے سبب بدھ سے رات کے اوقات میں لوگوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

10:09 5.8.2020

پاکستان میں 15 اموات، 675 نئے کیسز رپورٹ

پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 675 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ اس وبا سے 15 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 11 ہزار 915 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے کرونا کے اجلاس میں شادی ہالز اور ریستوران کھولنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اجلاس میں بزنس سینٹرز، سیاحتی مقامات، سنیما اور تھیٹرز کھولنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

04:29 5.8.2020

کرونا سے متاثرہ ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا ماں بھی اپنے شیر خوار بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔

جینوا سے وائس آف امریکہ کی نامہ نگار لیزا شلائین نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحت کے ماہرین کو اس بارے میں تشویش ہے کہ کرونا وبا کی وجہ سے بہت سے بچے ماں کے دودھ سے محروم ہو گئے ہیں، جبکہ کرونا سے متاثرہ ماں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے۔

عالمی ادارہ صحت میں خوراک اور غذائیت کے شعبے کے سربراہ لارنس گرومر سٹران کا کہنا ہے خواتین میں اس بارے میں آگہی پیدا کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے ادارے کا تخمینہ ہے کہ ہر سال آٹھ لاکھ 20 ہزار بچے ماں کا دودھ نہ ملنے کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے ماں کا دودھ بچوں کو اسہال، تنفس، لیکیومیا اور فربہی سے منسلک بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دودھ پلانے والی خواتین سرطان اور ذیابیطیس سے محفوظ رہتی ہیں۔

گرومر سٹران نے وی اے او سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس میں مبتلا خواتین کو اپنے نو مولود بچے کو اپنا دودھ دیتے ہوئے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ دودھ کے ذریعے اس وائرس کے منتقل ہونے کا امکان شاذو نادر ہی ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ادارے کو دنیا بھر سے ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی کہ ماں کے دودھ کے ذریعے بچہ کرونا وائرس کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے عام طور سے محفوظ رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چھ ماہ تک اگر بچوں کو ماؤں کا دودھ ملے تو اس بچے کی زندگی کا آغاز بے حد صحت مند ہوتا ہے۔

گرومر سٹران نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت کو اس سلسلے میں خاصی تشویش ہے۔ کیوں کہ فارمولا دودھ بنانے والی کمپنیاں اپنا دودھ فروخت کرنے کی خاطر غلط انداز میں تشہیر کرتی ہیں۔ یہ کمپنیاں ہر طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کرونا وبا کے نام پر بہت سی کمپنیاں صحت کے ماہرین کے طور پر ماؤں کو مشورے دیتی ہیں۔ مختلف ویب سائٹس پر بھی ایسی گمراہ کن خبریں عام ہیں۔ ہمیں ان منفی مشوروں کو نظر انداز کرنا چاہیے۔

ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ماں کے دودھ کا عالمی ہفتہ منایا جا رہا ہے۔ یکم اگست سے سات اگست تک منائے جانے والے اس ہفتے کے دوران صحت کے ادارے اس کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں مختلف تقاریب کا اہتمام کر رہے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG