برازیل میں مزید 907 افراد ہلاک، 51 ہزار نئے کیسز کا اضافہ
لاطینی امریکہ کے ملک برازیل میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 51 ہزار 194 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
وزارتِ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جمعے کو برازیل میں 907 افراد وبائی مرض سے ہلاک ہوئے۔
برازیل میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ اب تک ایک لاکھ 25 ہزار افراد اس مہلک وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔
'کرونا وائرس کی ویکسین آئندہ برس کے وسط سے پہلے دستیاب نہیں ہو گی'
عالمی ادارۂ صحت نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے لیے محفوظ ویکسین آئندہ برس کے وسط سے پہلے دستیاب نہیں ہو گی۔
کرونا ویکسین سے متعلق توقعات کے حوالے سے پیغام دیتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک محفوظ ویکسین کی تیاری میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اس میں تیزی نہیں دکھائی جا سکتی۔
عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 6 سے 9 ویکسینز آزمائشی بنیادوں پر مریضوں کو دی جا رہی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس کا کہنا ہے کہ کسی بھی ویکسین کا استعمال محفوظ ہونا چاہیے اور اسے کرونا وائرس کے خلاف کارآمد بھی ہونا چاہیے۔
ہیرس نے مزید کہا کہ ویکسین کے تمام مراحل کی نگرانی کیے جانے کی وجہ سے ویکسین کی تیاری پر کافی وقت لگتا ہے۔
ارجنٹائن کے چھ رگبی کھلاڑی وائرس سے متاثر
جنوبی امریکہ کے ملک ارجنٹائن کی قومی رگبی ٹیم کے چھ کھلاڑیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
جمعے کو ‘ارجنٹینا رگبی یونین’ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ کھلاڑیوں میں کرونا وائرس کی علامات موجود نہیں تھیں۔ تاہم انہیں آئسولیشن میں رکھا گیا تھا۔
بیان کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کیے گئے۔ جن میں سے چھ کھلاڑیوں کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
ایران میں اسکول کھل گئے
ایران میں کرونا وائرس کے سبب بند کیے گئے اسکول لگ بھگ سات ماہ بعد کھول دیے گئے ہیں۔
اس حوالے سے ایرانی صدر حسن روحانی کا ویڈیو کانفرنس میں کہنا تھا کہ ڈیڑھ کروڑ طلبہ کی تعلیم بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ صحت کا نظام اہم ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق ایران میں اسکول کھولے جانے کے فیصلے پر خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اس اقدام سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایران میں اب تک کرونا وائرس کے 3 لاکھ 82 ہزار سے زائد مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ جب کہ اس عالمی وبا سے 22 ہزار سے زائد ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔