برطانیہ میں وائرس کی ویکسین کی آزمائش عارضی طور پر معطل
برطانیہ میں کرونا وائرس ویکسین کی آزمائش عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے جس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ جن رضاکاروں پر ویکسین کی آزمائش کی جا رہی تھی ان میں سے ایک شخص بیمار ہو گیا ہے۔
'آکسفورڈ یونیورسٹی' اور ایک دوا ساز کمپنی 'آسٹرا زینیکا' مشترکہ طور پر کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کی کوشش کر رہے ہیں۔
آسٹرا زینیکا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آکسفورڈ کرونا وائرس ویکسین کے گوبل کنڑولڈ ٹرائلز جاری ہیں جس میں رضاکارانہ طور وقفہ لیا گیا ہے تاکہ ٹرائل میں سامنے آنے والی بیماری کی تحقیقات کی جا سکیں اور ویکسین کی آزمائش کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
'کرونا ویکسین کی تیاری میں جلد بازی سیاسی معاملہ ہے'
نیویارک میں کرونا کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سہیل چیمہ کہتے ہیں کہ کرونا ویکسین کی تیاری میں جلد بازی طبی نہیں بلکہ سیاسی وجوہات کی بنا پر کی جا رہی ہے۔ یہ بات میڈیکل کمیونٹی کے لیے تشویش کا باعث ہونی چاہیے۔ دیکھیے ڈاکٹر سہیل چیمہ سے وائس آف امریکہ کی فائزہ بخاری کی گفتگو
امریکہ میں مزید 434 اموات، مجموعی ہلاکتیں ایک لاکھ 89 ہزار سے متجاوز
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں منگل کو کرونا وائرس سے مزید 434 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 89 ہزار 642 تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب منگل کو مزید 26 ہزار افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی۔
خیال رہے کہ امریکہ وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اب تک 63 لاکھ 26 ہزار افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
کرونا وائرس کی ویکسین کب دستیاب ہو گی؟
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق کرونا وائرس کی چھ سے نو ویکسینز تیاری کے تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ لیکن ٹرائلز کی کامیابی کے باوجود ویکسین کو مارکیٹ میں لانے میں وقت لگے گا۔ دنیا بھر میں کرونا ویکسین کی تیاری کی کوششوں کا جائزہ دیکھیے صبا شاہ خان کی اس رپورٹ میں۔