امریکہ میں کرونا ویکسین کی دستیابی سے متعلق متضاد دعوے
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے ماحول میں جہاں ایک طرف کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے وہیں کرونا ویکسین کے معاملے پر بھی بحث گرم ہے۔
ویکسین کی فراہمی سے متعلق امریکہ کے 'سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن' (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ نے ایک بیان دیا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے اس پر ردِعمل دیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق رابرٹ ریڈفیلڈ نے کانگریس میں سماعت کے دوران بتایا ہے کہ کرونا کی ویکسین نومبر یا دسمبر میں بہت محدود پیمانے پر دستیاب ہو گی اور ابتدائی طور پر صرف طبّی عملے کے ارکان اور ہائی رسک افراد کو یہ ویکسین دی جائے گی۔ لیکن یہ جلد بڑے پیمانے پر دستیاب نہیں ہوگی۔
کرونا وبا 'کنٹرول سے باہر' ہو چکی ہے: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا اب 'کنٹرول سے باہر' ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ کرونا کی مؤثر اور قوتِ خرید میں آنے والی ویکسین کی تیاری کے لیے دنیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انتونیو گوتیرس نے کہا کہ اس وقت دنیا کی سیکیورٹی کے لیے کرونا وائرس ہی سے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
ایک طرف جہاں مختلف ممالک میں سائنس دان اور ماہرینِ طب کرونا وائرس کی مؤثر ویکسین تیار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ اس عالمی وبا کے لیے کوئی اکسیر نہیں ہے۔
سندھ: دو کالجز میں عملے کے 8 افراد کے ٹیسٹ مثبت
پاکستان کے صوبۂ سندھ کے ضلع مٹیاری میں دو کالجز کے عملے کے آٹھ افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
وزیرِ تعلیم سندھ سعید غنی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ کالجز کے عملے کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد دونوں کالجز کو بند کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں مزید 500 سے زیادہ کیسز رپورٹ