رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

13:48 27.9.2020

فرانس: کرونا وائرس کی دوسری لہر کی زد میں

فرانس میں طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کی دوسری لہر توقعات سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر دوسری لہر پر قابو نہ پایا گیا تو نظام صحت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

فرانس میں ڈاکٹرز کی ایک تنظیم کے سربراہ پیٹرک بوت نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر توقعات سے بھی زیادہ تیزی سے آرہی ہے۔

پیٹرک کا ایک انٹرویو کے دوران مزید کہنا تھا کہ وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر من و عن عمل نہیں ہو رہا۔

وزارت صحت کے مطابق ہفتے کو کرونا وائرس کے مزید 14 ہزار 414 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

13:43 27.9.2020

بھارت میں مزید 88 ہزار سے زائد نئے کیسز

امریکہ کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 88 ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ بھارت میں وائرس کے باعث 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار سے اموات بھی ہوئی ہیں۔

وزارت صحت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں اب تک اس وبا سے ہلاکتوں کی تعداد 94 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

بھارت میں اب تک اس عالمی وبا سے 60 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق بھارت میں اس وبا سے صحت یاب ہونے والوں کی اوسط 82 فی صد ہے۔

13:39 27.9.2020

امریکی ریاست نیو یارک میں ایک ہزار سے زائد نئے کیسز


امریکی ریاست نیو یارک میں پانچ جون کے بعد ایک ہی روز میں کرونا کے سب سے زیادہ ایک ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ کاروبار اور تعلیمی اداروں کا کھلنا ہے۔

ریاست نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو کا ہفتے کو ایک بیان میں کہنا تھا کہ جمعے کو ریاست میں 99 ہزار سے زائد کرونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے ایک فی صد ٹیسٹ مثبت آئے۔

جولائی سے لے کر ستمبر تک ریاست میں اوسطً روزانہ 660 کیسز رپورٹ ہو رہے تھے۔ لیکن گزشتہ جمعے کو اس سے قبل سات روز کے دوران یہ اوسط بڑھ کر 817 ہو گئی تھی۔

18:23 26.9.2020

فِن لینڈ کے ہوائی اڈے پر کرونا وائرس کی شناخت کے لیے کتے تعینات

کرونا وائرس کے ٹیسٹ سے خوف کھانے والوں کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اب اس موذی وبا کا پتا چلانے کے لیے ایک بہت ہی سادہ اور ارزاں طریقہ ڈھونڈ لیا گیا ہے جس میں ذرا سی بھی تکلیف نہیں ہوتی اور نتیجہ بھی چند سیکنڈز میں سامنے آتا ہے۔ یہ نیا طریقہ فن لینڈ کے ہلسنکی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر متعارف کرایا گیا ہے۔

ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کتے سونگھ کر ایسے افراد کا کھوج لگا سکتے ہیں جنہیں کرونا وائرس لگ چکا ہو۔ چاہے اس کی علامات ظاہر ہوئی ہوں یا ابھی اپنی ابتدائی اسٹیج میں ہوں۔

کتے میں سونگھنے کی صلاحیت غیر معمولی طور پر زیادہ ہوتی ہے۔ اس مخصوص صلاحیت کی وجہ سے منشیات کا کھوج لگانے، بارودی مواد تلاش کرنے، جرائم کی تحقیقات اور مجرموں کی شناخت کے لیے ان کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ کتے محض سونگھ کر کینسر کا قبل از وقت پتا چلا لیتے ہیں۔ کینسر کی بر وقت تشخیص ہو جانے سے مریض کی زندگی بچانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

اور اب ماہرین نے کینسر کے بعد کرونا وائرس کے مریضوں کا پتا چلانے کے لیے بھی کتے کی اس صلاحیت سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG