کرونا وبا کے دوران پاکستان کا نظامِ صحت کتنا بدلا؟
پاکستان میں موسمِ سرما کا آغاز ہو رہا ہے۔ کرونا کی وبا کے ساتھ ساتھ موسم سرما میں نزلہ، زکام اور سانس کے امراض ماہرینِ صحت کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہوں گے اور پاکستان کا نظامِ صحت ان بیماریوں سے نمٹنے کے لیے کس حد تک تیار ہے؟ جانیے ڈاکٹر بشری جمیل سے وائس آف امریکہ کی صبا شاہ خان کی گفتگو میں۔
آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں پولیس کے گشت میں اضافہ
آسٹریلیا میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست وکٹوریا کے شہر میلبرن میں درجہ حرارت میں اضافے کے بعد لوگوں نے ساحل سمندر کا رُخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ جس کے سبب مقامی پولیس نے لوگوں کو روکنے کے لیے گشت میں اضافہ کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ لگ بھگ 50 لاکھ آبادی کے شہر میلبرن میں کرونا وائرس کے باعث نافذ کردہ پابندیوں میں لوگ ایک دن میں دو گھنٹوں کے لیے گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے گھروں کے آس پاس کے علاقوں تک محدود رہنے کے پابند ہیں۔
مقامی اور سماجی میڈیا پر دستیاب ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ ساحل سمندر پر موجود ہیں۔ جن میں سے کئی لوگوں نے فیس ماسک بھی نہیں پہنے ہوئے۔
وکٹوریا کے پریمیئر ڈینئل اینڈریوز کا کہنا ہے کہ ساحل پر جانے والے لوگوں کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔
حکام کے مطابق 24 گھنٹوں کے دوران ریاست وکٹوریا میں مزید 8 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ جب کہ تین افراد اس وبا کے سبب ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سال فلو ویکسین لینا زیادہ ضروری کیوں ہے؟
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ موسم بدلے گا تو کرونا وائرس بھی تھم جائے گا۔ لیکن سردی سے گرمی ہوئی اور اب پھر سردیاں آ رہی ہیں، مگر وائرس بدستور موجود ہے۔ اب فلو کا سیزن شروع ہونے والا ہے اور ماہرینِ صحت کو ڈر ہے کہ کچھ ملکوں کو کرونا اور انفلوئنزا کی دوہری وبا 'ٹوئن ڈیمک' کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت میں اموات ایک لاکھ سے متجاوز
بھارت میں کرونا وائرس کے سبب ہونے والی اموات کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
بھارت میں یومیہ رپورٹ کیے جانے والے کیسز کی تعداد بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔
وزارت صحتِ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں اس مہلک وبا سے اب تک ایک لاکھ 842 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 79 ہزار 476 افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ جس کے بعد اس وبا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 64 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
خیال رہے کہ بھارت دنیا بھر میں اس وبا سے متاثر ہونے والے ممالک میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ جب کہ دنیا بھر سے مجموعی طور پر رپورٹ کیے جانے والے کیسز میں سے 45 فی صد کیسز امریکہ، بھارت اور برازیل سے رپورٹ ہوئے ہیں۔