کرونا بحران میں قہقہے صحت کے نسخے سے کم نہیں: ماہرین
عام حالات میں پریشانیوں سے نمٹنے کے دوران ہنسی مزاح کا اپنانا ایک مثبت رویہ تصور کیا جاتا ہے لیکن کرونا کے طول پکڑتے ہوئے بحران میں قہقہے کسی طبی نسخے سے کم نہیں۔
اگرچہ کرونا کے خلاف کوئی مؤثر دوا تو دریافت نہیں ہوئی لیکن ڈاکٹروں، ماہرینِ صحت اور میڈیکل اسٹاف کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ذہنی دباؤ اور تناؤ کی کیفیت سے نکلنے میں قہقہے لگانا بہت اہم ہے۔
یونیورسٹی آف میری لینڈ سے منسلک ماہرِ امراض قلب ڈاکٹر مائیکل ملر کہتے ہیں کہ موجودہ پریشان کن حالات میں ہنسی مزاح نہ صرف تلخ حقیقت سے انحراف کا ذریعہ ہیں بلکہ یہ صحت کی بہتری کا ایک منصوبہ بھی ہیں۔
انہوں نے 'نیویارک ٹائمز' اخبار کو بتایا کہ بڑھتی ہوئی ذہنی کشیدگی دل کے دورے جیسی صورتِ حال پیدا کرتی ہے جب کہ حس مزاح کا ہونا تناؤ اور ذہنی دباؤ کی کیفیت کو کم کرنے کا بہتریں ذریعہ ہے۔
ان کے بقول ہنسی مزاح تناؤ کی کیفیت کو کم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے۔
طبی سطح پر بیان کیا جائے تو وہ کہتے ہیں کہ قہقہے انسانی جسم میں نائیٹرک آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں اور یہ ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے اور خون کو جمنے سے روکتا ہے۔
کرونا کیسز سامنے آنے پر اسلام آباد میں اسکول سیل
نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم کا ایک بار پھر کرونا کو شکست دینے کا اعلان
نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اعلان کیا ہے کہ اُن کے ملک نے کرونا وائرس کو دوسری مرتبہ شکست دے دی ہے۔
وزیرِ اعظم جیسنڈا نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت نے وائرس کو دوبارہ پھیلنے سے روکنے کی لڑائی میں وبا کو شکست دے دی ہے جس کے بعد ملک کے دوسرے بڑے شہر آکلینڈ سے پابندیاں اٹھا لی ہیں۔
وزیرِ اعظم جیسنڈا نے شہریوں کو پابندیوں پر عمل درآمد کرنے پر مبارک باد بھی دی۔
وزیرِ اعظم جیسنڈا نے مئی میں وائرس کے خلاف پہلی مرتبہ فتح کا اعلان اُس وقت کیا تھا جب ملک میں 102 روز تک مقامی سطح پر وائرس کی منتقلی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔
لیکن اگست میں کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنا شروع ہوئے تو 15 لاکھ آبادی والے شہر آکلینڈ میں دوبارہ پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔
خیبر پختونخوا: اسکولوں میں سہولتیں نہیں، ایس او پیز پر عمل کیسے ہو گا؟
خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 42 تعلیمی ادارے بند کیے گئے ہیں جن میں اکثریت نجی اسکولوں کی ہے۔ دوسری جانب صوبے کے ہزاروں سرکاری اسکول بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں جس کے باعث ان میں کرونا کے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد مشکل نظر آ رہا ہے۔ عمر فاروق کی رپورٹ۔