جرمنی میں ایک دن میں ریکارڈ کیسز کی تصدیق
جرمنی میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 11 ہزار 287 افراد کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ایک دن میں سامنے آنے والے یہ سب سے زیادہ کیسز ہیں۔
جرمنی میں بھی دیگر یورپی ممالک کی طرح حالیہ ہفتوں میں کیسز میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ حکام نے وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ جب کہ بڑے اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ جرمنی میں تین لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔ جب کہ 9875 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
'ریاست پینسلوینیا میں اب کاروبارِ زندگی معمول پر آ جانا چاہیے'
ایسے میں جب امریکہ کی ریاست پینسلوینیا میں کرونا کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاست میں اب کاروبارِ زندگی معمول پر آ جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ منگل کو انتخابی مہم کے سلسلے میں سوئنگ اسٹیٹ سمجھی جانے والی ریاست پینسلوینیا پہنچے تھے۔ ایئر پورٹ پر جمع ہونے والے اپنے حامیوں سے خطاب میں صدر نے کہا کہ اُن کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس ریاست میں ہو کیا رہا ہے۔
ریاست میں کرونا وائرس کی شدت کے تناظر میں ڈیمو کریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر ٹام وولف نے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں یہ پابندیاں طویل عرصے سے جاری ہیں اور اب انہیں ہٹا دیا جانا چاہیے۔
صدر نے اپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "آپ اپنے گورنر سے کہیں کہ ریاست کو کھول دیں۔"
ریاست پینسلوینیا کو تین نومبر کے صدارتی انتخاب کے حوالے سے اہم ریاست تصور کیا جاتا ہے اور صدر ٹرمپ اور نائب صدر پینس انتخابی مہم کے دوران متعدد بار اس ریاست کا دورہ کر چکے ہیں۔
پاکستان میں زیرِ علاج افراد کی تعداد 9642 ہو گئی، 591 افراد انتہائی نگہداشت میں موجود
پاکستان میں کرونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 736 افراد متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد زیرِ علاج افراد کی تعداد 9642 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں وبا سے 3 لاکھ 25 ہزار 480 افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے 3 لاکھ 9 ہزار 136 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 6702 اموات ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 10 اموات ہوئی ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان میں اب تک 41 لاکھ 77 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ساڑھے 28 ہزار ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق زیرِ علاج 9642 افراد میں سے 591 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
کرونا کی تشخیص کے لیے بھارت میں تیز رفتار 'پیپر ٹیسٹ' متعارف
بھارت کے سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بہت جلد تیز رفتار اور سستا کرونا ٹیسٹ متعارف کرایا جائے گا جس سے تیزی سے پھیلتی وبا کو قابو کرنے میں مدد ملے گی۔
بھارتی سائنس دان حمل کی تصدیق کے لیے استعمال ہونے 'والی پیپر اسٹرپ' کی طرز پر کرونا وائرس کے لیے ٹیسٹ کٹ تیار کر رہے ہیں جسے 'فلیوڈا' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک گھنٹے میں نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 75 لاکھ سے زیادہ ہے۔ متاثرہ ممالک کی فہرست میں امریکہ کے بعد بھارت کا دوسرا نمبر ہے۔ وہاں ممبئی جیسے گنجان آباد شہروں سے لے کر محدود طبی سہولیات رکھنے والے دیہی علاقوں تک، ہر جگہ وبائی مرض پھیلا ہوا ہے۔
محققین پر امید ہیں کہ 'پیپر ٹیسٹ' کم قیمت اور استعمال میں سہل ہونے کے سبب غربت زدہ اور دور دراز علاقوں میں وبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دے گا۔
نئی دہلی کے 'انسٹی ٹیوٹ آف جینومکس اینڈ انٹی گریٹیو بائیولوجی' (سی ایس آئی آر) سے وابستہ سائنس دان اور ریسرچر سووک میتی کا کہنا ہے اس ٹیسٹ کے لیے نہ تو غیر معمولی جدید آلات کی ضرورت ہے اور نہ ہی اعلیٰ تربیت یافتہ عملہ درکار ہو گا بلکہ کوئی بھی شخص آسانی سے خود یہ ٹیسٹ کر سکے گا۔