ایشیا میں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے متجاوز
ایشیا میں ہفتے کے روز کرونا وائرس کے رپورٹ ہونے والے کیسز کے بعد براعظم میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ایشیا میں بھارت عالمی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہیں۔ جہاں دنیا بھر میں رپورٹ کیے جانے والے کیسز میں سے 21 فی صد کیس رپورٹ کیے گئے۔
دنیا بھر میں وبا کے سبب ہونے والی مجموعی اموات میں سے 12 فی صد ہلاکتیں بھی بھارت میں ہوئی ہیں۔
بھارت کے مشرق میں واقع ملک بنگلہ دیش خطے میں وبا سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے۔ جہاں لگ بھگ 4 لاکھ افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک انڈونیشیا میں 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد اس وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد لگ بھگ 3 لاکھ 27 ہزار ہے۔
پاکستان میں زیرِ علاج افراد کی تعداد ایک بار پھر 10 ہزار سے متجاوز
پاکستان میں کرونا وائرس کے زیرِ علاج افراد کی تعداد ایک بار پھر 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 847 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس سے مجموعی طور پر 3 لاکھ 27 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے جن میں سے 3 لاکھ 10 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 6727 افراد کی موت ہوئی ہے۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں اب بھی 10ہزار 235 افراد زیرِ علاج ہیں۔ ان میں سے 586 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
کرونا وائرس کی پہلی باضابطہ دوا کی منظوری دے دی گئی
امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ( ایف ڈی اے) نے کرونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے 'ریم ڈس وائر' کو پہلی باضابطہ دوا کے طور پر منظور کر لیا ہے۔ ریمیڈس وائر ایک اینٹی وائرل دوا ہے، جو اسپتال میں داخل ہونے والے مریضوں کو دی جائے گی۔
اس دوا کو ریاست کیلیفورنیا میں قائم گِلی ایڈ سائنسز نے ویکلری کا نام دیا گیا ہے۔ اس دوا سے مریض اوسطاً 15 کی بجائے 10 روز میں صحت یاب ہو جاتا ہے۔ اس دوا پر یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے گِلی ایڈ کے ساتھ مل کر تحقیق کی تھی۔
اِس سال موسم بہار سے ریم ڈس وئر کو صرف ہنگامی بنیادوں پر دیا جا رہا تھا۔ تاہم اب یہ پہلی ایسی دوا کے طور پر سامنے آئی ہے جسے کووڈ-19 کے علاج کے لیے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایدمنسٹریشن کی مکمل منظوری حاصل ہو گئی ہے۔
اس ماہ کے آغاز پر جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے، تب اُنہیں بھی یہی دوا دی گئی تھی۔
بھارت: مفت کرونا ویکسین دینے کے بی جے پی کے انتخابی وعدے پر تنازع
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بہار میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے دوران اپنا منشور جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ برسرِ اقتدار آتی ہے تو بہار میں شہریوں کو مفت کرونا ویکسین دی جائے گی۔ بی جے پی کے اس اعلان پر ایک بڑا تنازع پیدا ہو گیا ہے۔
حزبِ اختلاف اس اعلان کی شدید مذمت کر رہی ہے۔ اور الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی نے کرونا وائرس کو بھی سیاست زدہ کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ بی جے پی کے انتخابی منشور کا پہلا وعدہ یہی ہے۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے مخالفت کے بعد بی جے پی دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔
وزیرِ مالیات نرملا سیتا رمن نے پٹنہ میں انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوں ہی کرونا ویکسین تیار ہو جائے گی، بہار کے ہر شہری کو مفت ٹیکہ لگایا جائے گا۔
بی جے پی کے اس اعلان پر کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، عام آدمی پارٹی، نیشنل کانفرنس، سماج وادی پارٹی سمیت حزبِ اختلاف کی متعدد جماعتوں نے شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ وبا کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کو بھی ایک سیاسی ایجنڈہ بنا دیا گیا ہے۔