پاکستان میں زیرِ علاج افراد کی تعداد 18 ہزار تک پہنچ گئی
پاکستان میں کرونا وائرس کے زیرِ علاج مریضوں کی تعداد 18 ہزار تک پہنچ گئی۔ جب کہ ایک ہزار کے قریب افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 1436 افراد متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد وبا سے متاثر افراد کی تعداد 3 لاکھ 43 ہزار ہو گئی ہے جن میں سے 3 لاکھ 18 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ 6968 لوگ وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اب بھی17 ہزار 804 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں میں زیرِ علاج افراد کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
حکام کے مطابق زیرِ علاج افراد میں سے 921 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
پاکستان میں اموات کی شرح میں اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس سے رواں ہفتے 133 اموات ہو چکی ہیں۔ حکومت عوام سے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی مسلسل اپیل کر رہی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 25 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 6968 ہو گئی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ اموات 20 جون کو ہوئی تھیں جب حکام نے ملک بھر میں 152 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔
اس کے بعد پاکستان میں اموات میں کمی آنا شروع ہوئی تھیں۔ ستمبر میں وبا سے ہلاکتوں کی شرح انتہائی کمی ہو گئی تھی۔ جس کے بعد حکومت نے پابندیوں میں نرمی کرنا شروع کر دی تھی۔
گزشتہ ماہ کے آغاز سے ایک بار پھر وبا سے ہلاکتیں بڑھنا شروع ہوئی تھی۔ البتہ رواں ماہ یومیہ اموات کی شرح ایک بار پھر بڑھ چکی ہے۔
رواں ہفتے پیر کو 14، منگل کو 18، بدھ کو 26، جمعرات کو 30، جمعے کو 20 جب کہ گزشتہ روز25 اموات ہوئی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے چیف آف اسٹاف بھی وبا سے متاثر
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف آف اسٹاف مارک میڈوز کے بھی کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے دو اعلیٰ ترین حکام نے تصدیق کی ہے کہ مارک میڈوز کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
حکام نے مزید آگاہ نہیں کیا کہ صدر ٹرمپ کے چیف آف اسٹاف کب وبا سے متاثر ہوئے اور ان کا ٹیسٹ کب مثبت آیا۔
واضح رہے کہ مارک میڈوز امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران صدر ٹرمپ کے ہمراہ سفر کرتے رہے ہیں۔ جب کہ آخری بار وہ تین دن قبل بدھ تک کسی عوامی سطح پر نظر آتے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ صدر ٹرمپ بھی کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور گزشتہ ماہ کے آغاز میں انہوں نے کچھ دن اسپتال میں بھی گزارے تھے۔ وبا سے صحت یاب ہونے کے بعد وہ دوبارہ انتخابی مہم میں مصروف ہو گئے تھے۔
قبل ازیں نائب صدر مائیک پینس کے چیف آف اسٹاف اور عملے کے کچھ ارکان بھی وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔
وبا کی دوسری لہر میں تیزی کا اندیشہ، پاکستان میں جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ
پاکستان میں حکومت نے کرونا وائرس کی دوسری لہر میں تیزی کے خدشات اور کیسز کی تعداد میں اضافے کے بعد ملک بھر کے سرکاری و نجی اداروں میں نصف عملہ بلانے، شادی کی ’ان ڈور‘ تقاریب پر پابندی لگانے اور ماسک نہ پہننے پر جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کے مطابق ایس او پیز پر عمل درآمد کا یہ مرحلہ 31 جنوری 2021 تک جاری رہے گا۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ہفتے سے ملک بھر میں احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق دوسرے مرحلے میں فیس ماسک پہننے کی پابندی سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس مقصد کے لیے گلگت بلتستان ماڈل پر عمل درآمد ہوگا۔
ملک کے زیادہ متاثرہ شہروں میں ماسک نہ پہننے والوں پر 100 روپے جرمانہ عائد ہو گا اور اس جرمانے کے عوض انہیں تین ماسک فراہم کیے جائیں گے۔
ان ڈور شادی کی تقریبات پر پابندی عائد ہو گی۔ البتہ شادی کی تقریبات کھلی فضا میں منعقد کرنے کی اجازت ہو گی۔
احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کا نفاذ ان شہروں میں ہوگا جہاں اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق بڑی تعداد میں کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
ان شہروں میں کراچی، حیدرآباد، لاہور، ملتان، گجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، بہاولپور، اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت، مظفر آباد، میرپور، پشاور، ایبٹ آباد اور کوئٹہ شامل ہیں۔
پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر افتخار برنی نے کہا ہے کہ سرد موسم کی وجہ سے بیماری کے پھیلنے کا زیادہ امکان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عام سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو چکی ہیں۔ جب کہ بڑے بڑے مذہبی اور سیاسی اجتماعات ہو رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال شدید تشویش کا باعث ہے۔