بھارت میں کرونا وائرس کے 39 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ
بھارت میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 39 ہزار 366 کیسز سامنے آئے ہیں۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے اعداد و شمار کے مطابق نئے اضافے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 89 لاکھ 12 ہزار 907 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 490 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بھارت میںاب تک ایک لاکھ 30 ہزار 993 افراد کی وبا کے باعث موت ہو چکی ہے۔
جنوبی ایشیا کا ملک بھارت متاثرین کی مجموعی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
بھارت میں سب سے زیادہ کیسز ستمبر میں رپورٹ ہوئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے بھارت میں ان دنوں چوںکہ تہواروں کا موسم ہے اور ایک کے بعد ایک تہوار منائے جا رہے ہیں۔ اس لیے متاثرین کی تعداد میں مزید اضافے کا اندیشہ ہے۔
سری لنکا میں وبا کے باعث مچھلی کی فروخت متاثر
سری لنکا میں کرونا وائرس کے سبب مچھلی کی خرید و فروخت شدید متاثر ہوئی ہے جس سے ماہی گیری کی صنعت کو خسارے کا سامنا ہے۔
ماہی گیری کی صنعت کو فروغ دینے اور لوگوں کو بلا خوف و خطر مچھلی کھانے کے لیے راغب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سابق وزیر دلیپ ویڈار رچیچی نے دارالحکومت کولمبو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کچھ مچھلی نگل لی۔
منگل کو پریس کانفرنس میں سابق وزیر کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث آنے والی مندی کو دور کرنے کی غرض سے عوام مچھلی کی فروخت کی حوصلہ افزائی کریں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ افراد کو مچھلی کی فروخت میں دقت کا سامنا ہے۔ لوگوں نے مچھلی کھانا چھوڑ دی ہے لیکن مچھلی کھانے میں کوئی نقصان نہیں۔
اس کے بعد انہوں نے سب کے سامنے مچھلی منہ میں ڈالی اور نگل لی۔
پریس کانفرنس جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ مچھلی میں آپ کو دکھانے کے لیے لایا ہوں۔ میری عوام سے اپیل ہے کہ مچھلی کھائیں۔ اس میں ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ مچھلی کھانے سے کرونا وائرس نہیں پھیلتا۔
دلیپ ویڈار کا تعلق سری لنکا کی حزبِ اختلاف کی جماعت سے ہے۔ وہ گزشتہ سال تک ماہی گیری کے وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔
کولمبو کی مرکزی ہول سیل مارکیٹ میں وبائی مرض پھیلنے سے بہت سے لوگ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے جو بعد میں ملک بھر میں پھیلتا چلا گیا جس کے بعد فش مارکٹ کو بند کرا دیا گیا تھا۔
مارکیٹ بند ہونے کے نتیجے میں کئی ٹن مچھلی فروخت ہونے سے رہ گئی اور قیمتیں گرتی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ لوگوں نے مچھلی خریدنا اور کھانا ترک کر دیا۔ حالاںکہ مچھلی سری لنکا کی اہم ترین غذا شمار ہوتی ہے۔
پاکستان میں رواں ماہ 407 افراد ہلاک
پاکستان میں کرونا وائرس سے نومبر میں چار سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ وبا سے یومیہ اموات کی شرح 22 سے زائد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں وبا سے مزید 37 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 7230 تک پہنچ گئی ہے۔
واضح رہے کہ رواں ماہ پاکستان میں وبا سے اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے اور نومبر میں گزشتہ 17 روز میں 407 افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں ماہ میں اب تک یومیہ اموات کی شرح 22.61 تک پہنچ چکی ہے۔
امریکہ میں وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کئی ریاستوں میں نئی پابندیاں
امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے باعث کیلی فورنیا، آئیووا اور متعدد دیگر ریاستوں میں نئی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جن کا مقصد وبا کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔
آئیووا کی گورنر کم رینالڈ نے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے عمارتوں کے اندر ہونے والی تقریبات میں شرکا کی تعداد کو 15 تک محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جب کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور تمام لوگوں کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے۔
اس کے علاوہ تمام کلبز اور ریستوران بھی رات 10 بجے بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
گورنر کم رینالڈ کا کہنا ہے کہ اگر آئیووا کے شہری ان پابندیوں پر عمل نہیں کریں گے تو ہمیں کرونا وائرس پر قابو پانے میں ناکامی ہو گی۔
دوسری جانب کیلی فورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے بھی ریاست کی 58 میں سے 40 کاؤنٹیوں میں تمام کلب اور ریستوران بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ جب کہ لوگوں کے لیے گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے۔