براعظم افریقہ میں کرونا کیسز 20 لاکھ سے متجاوز
افریقی ممالک میں کرونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 20 لاکھ سے بڑھ گئی ہے جب کہ طبی ماہرین کا کہنا ہے 54 ممالک پر مشتمل براعظم کو وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے۔
افریقہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے مطابق مجموعی طور پر افریقی ممالک میں اب تک 48 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جو دنیا بھر میں کرونا سے ہونے والی اموات کا چار فی صد ہے۔
ایک ارب 30 کروڑ نفوس پر مشتمل افریقی ممالک کو وائرس کی دوسری لہر کا سامنا کرنے میں مشکل کا سامنا ہے۔ کیوں کہ معاشی صورتِ حال کے باعث کئی ممالک نے پابندیاں ہٹا لی ہیں۔
افریقہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے حکام کا کہنا ہے کہ ویکسین کے کامیاب ٹرائلز کی خبریں خوش آئند ہیں۔ تاہم اُن کے بقول افریقی ممالک تک اس کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہو گا کیوں کہ یہاں سہولیات کا فقدان ہے۔
سعودی عرب میں سات ماہ بعد 300 سے کم کیس رپورٹ
سعودی عرب میں کرونا وبا کا زور ٹوٹ رہا ہے اور جمعرات کو سات ماہ بعد 300 سے کم کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
سعودی وزارتِ صحت کے مطابق جمعرات کو ملک بھر میں صرف 290 کیس رپورٹ ہوئے جن میں 63 ریاض جب کہ 29 کیس مدینہ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
سعودی عرب میں مجموعی طور پر تین لاکھ 54 ہزار سے زائد کیس جب کہ اس مہلک وائرس سے 5700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 411 افراد اس مرض سے صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد مجموعی طور پر صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 3 لاکھ 41 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔
پاکستان میں 2500 سے زیادہ کیسز رپورٹ
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے متاثرہ مزید 18 مریض دم توڑ گئے جب کہ 2547 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں بدھ کو 36 ہزار 899 ٹیسٹ کیے گئے، اس طرح ملک میں مثبت کیسز کی شرح چھ اعشاریہ نو فی صد رہی۔
پاکستان میں عالمی وبا سے اب تک 7248 افراد ہلاک اور تین لاکھ 65 ہزار سے زیادہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ حکام کے مطابق تین لاکھ 26 ہزار سے زیادہ متاثرہ افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
حکام کے مطابق کرونا سے متاثرہ 1535 مریضوں کی حالت اب بھی تشویش ناک ہے۔
کرونا وبا کے خاتمے کے لیے صرف ویکسین پر انحصار درست نہیں: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کرونا وبا کے خاتمے کے لیے صرف ویکسین پر انحصار کرنا درست نہیں ہو گا۔ کیوں یہ ویکسین کرونا کے پھیلاؤ کی موجودہ لہر نہیں روک سکتی۔
عالمی ادارۂ صحت کے ایمرجنسی پروگرام کے ڈائریکٹر مائیک ریان نے بدھ کو ورچوئل سیشن کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ویکسین کے بغیر کرونا کی حالیہ لہر کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ لیکن اُن کے بقول ویکسین بھی بیماری کے مکمل خاتمے کا حل نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ "کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ویکسین کے آنے کے بعد سارا مسئلہ حل ہو جائے گا یا یہی نجات دہندہ ہے جس کے پیچھے سارے بھاگ رہے ہیں۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔"
مائیک ریان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈز بھرنے سے روکنے کا واحد حل سماجی فاصلہ اختیار کرنا ہے تاکہ بیماری کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔