کھانسی کی آواز سے کرونا کا ٹیسٹ کرنے والی فون ایپ
کھانسی کی آواز کے ذریعے کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے والی اسمارٹ فون ایپ ایجاد کرنے والے اوکلاہوما یونیورسٹی کے پروفیسر علی عمران سے وائس آف امریکہ کے آفتاب بوڑکا کی گفتگو۔
امریکہ: بے روزگاری الاؤنس کے لیے سات لاکھ 42 ہزار نئی درخواستیں
امریکی محکمہ محنت نے جمعرات کو کہا ہے کہ ملک میں کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے مریضوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ ہفتے بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینے والوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کو ایک نئے خطرے کا سامنا ہے۔
لیبر ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق سات لاکھ 42 ہزار بے روزگار افراد نے الاؤنس کے حصول کے لیے نئی درخواستیں دائر کیں ہیں۔ جو کہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 31 ہزار زیادہ ہیں۔ یہ مسلسل پانچواں ہفتہ ہے جب کہ بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دینے والوں کی تعداد سات لاکھ سے زیادہ ہے۔
محکمہ محنت کا کہنا ہے کہ کل چھ اعشاریہ چار ملین افراد بے روزگار ہیں، جب کہ نومبر کے پہلے ہفتے بے روزگاری کی شرح چار اعشاریہ تین فی صد تھی۔
بے روزگاری کی شرح میں اپریل کے مقابلے میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ اپریل میں بے روزگاری کی شرح 14 اعشاریہ سات فیصد تھی۔ تاہم امریکہ میں کرونا وائرس کے ایک لاکھ 70 ہزار نئے متاثرین کے اندراج کے بعد، مختلف ریاستوں کے گورنروں اور میئرز نے کاروباری سرگرمیوں پر نئی قدغنیں عائد کرنا شروع کر دی ہیں، جنہیں مہینوں پہلے وائرس متاثرین میں کمی کے بعد نرم کر دیا گیا تھا۔
امریکہ: طبی حکام کی تھینکس گیونگ کے تہوار پر احتیاط برتنے کی ہدایت
امریکہ میں کرونا وائرس کی نئی لہر کے پیش نظر امریکہ کے ادارے 'سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن' (سی ڈی سی) نے تھینکس گیونگ کے تہوار پر عوام کے لیے گائیڈ لائنز جاری کی ہیں۔
سی ڈی سی نے عوام سے 26 نومبر کو منائے جانے والے تہوار کے موقع پر احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔
سی ڈی سی کے کرونا وائرس سے متعلق مینیجر ڈاکٹر ہنری والک نے نشریاتی ادارے 'سی این بی سی' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان تعطیلات کے موقع پر احتیاط بہت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت اس سے زیادہ اہم اور کوئی بات نہیں کہ ہر امریکی ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے، ہاتھ دھونے اور سب سے اہم ماسک پہننے کی پہلے سے زیادہ کوشش کرے۔
سی ڈی سی نے تجویز کیا ہے کہ تھینکس گیونگ تہوار صرف ان ہی لوگوں کے ساتھ منایا جائے جو ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔
فائزر دسمبر میں ویکسین فراہم کرنے کے لیے تیار
دوا ساز کمپنی فائزر نے کہا ہے کہ اس نے امریکی ریگولیٹرز سے درخواست کی ہے کہ اسے کووڈ۔19 کے لیے اپنی تیار کردہ ویکسین کی ایمرجنسی میں استعمال کی فوری اجازت دی جائے، جس کی پہلی خوراک وہ اگلے مہینے تک فراہم کر سکتی ہے۔
تاہم کمپنی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سردست وہ صرف محدود مقدار میں ہی ویکیسن فراہم کر سکے گی جسے ایمرجنسی میں ہی استعمال کیا جا سکے گا۔
فائزر کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے اختتام سے قبل زیادہ مقدار میں ویکسین کی فراہمی ممکن نہیں ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس کی ویکسین سے مہلک عالمی وبا کرونا وائرس کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
فائزر کی جانب سے یہ اعلان ان کی جانب سے اس دعویٰ کے بعد سامنے آیا ہے کہ اس کی ایک جرمن بائیوٹیک کمپنی کی شراکت میں تیار کی جانے والی ویکسین کرونا وائرس کے خلاف 95 فی صد تک مؤثر ہے۔
فائزر نےکہا ہے کہ اس کی ویکسین کے تجربات کی کامیابی کی حتمی شرح 95 فی صد رہی ہے۔