تھینکس گیونگ: دو دن میں 20 لاکھ امریکیوں کا فضائی سفر، کرونا انتباہ نظر انداز
امریکہ کے ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے مطابق جمعے اور ہفتے کو ملک بھر کے مختلف ہوائی اڈوں پر 20 لاکھ مسافروں کو اسکرین کیا گیا۔ غالب امکان ہے کہ ان میں سے بیشتر لوگوں نے تھینکس گیونگ کا تہوار اپنے خاندان کے ساتھ منانے کے لیے سفر کیا۔
تھینکس گیونگ امریکہ کا سب سے بڑا تہوار ہے جسے یومِ تشکر بھی کہا جاتا ہے۔ اس موقع پر امریکہ بھر میں لوگ دور دراز کا سفر کر کے اپنے خاندان اور دوستوں کے پاس جاتے ہیں اور ان کے ساتھ یہ تہوار مناتے ہیں۔
تھینکس گیونگ سے امریکہ میں تعطیلات کا موسم شروع ہو جاتا ہے جو نئے سال کی آمد تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران اکثر لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے سفر کرتے رہتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دو دنوں میں 20 لاکھ افراد کے فضائی سفر کی یہ تعداد گو کہ گزشتہ سال کے مقابلے کم ہے، لیکن کرونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت کے باوجود جمعے کو اس سال مارچ کے بعد پہلی مرتبہ ایک روز میں 10 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے فضائی سفر کے لیے ہوائی اڈوں کا رخ کیا۔
ہنگری: ماسک والی 'سانتا کلاز چاکلیٹ' کے چرچے
ہنگری کے ایک حلوائی نے کرونا وبا اور کرسمس کی آمد کے پیشِ نظر ایسی سانتا کلاز چاکلیٹ متعارف کرائی ہے جس میں سانتا کلاز نے بھی ماسک پہن رکھا ہے۔ اس منفرد چاکلیٹ کی آن لائن فروخت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حلوائی کو طلب پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو کرتے ہوئے ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ کے نواحی گاؤں کے حلوائی لیسلو ریموچی کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے عالمگیر وبا کے دور میں لوگوں کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے ایسا کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ "میرا خیال ہے کرسمس کے موقع پر جب سانتا کلاز کی آمد ہوگی تو اُنہیں ماسک پہننا پڑے گا تاکہ لوگوں تک مثبت پیغام پہنچے اور اچھی مثال قائم ہو۔"
جی 20 ممالک کا کرونا ویکسین سب تک پہنچانے کا عزم
دنیا کی 20 بڑی معیشتوں پر مشتمل جی 20 ممالک نے اپنے ورچوئل اجلاس میں کرونا ویکسین کو تمام افراد تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اجلاس میں کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
جی 20 ممالک کا ورچوئل اجلاس ہفتے کو شروع ہوا تھا جس میں عالمی رہنماؤں نے کرونا وبا کے باعث دنیا کی معیشت کو درپیش چیلنجز پر اظہارِ خیال کیا۔
اجلاس سے اپنے خطاب میں میزبان سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وبا سے نمٹنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائیں گے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں اور جرمن چانسلر اینجلا مرکل نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وبا پر قابو پانے کا واحد حل مشترکہ کوششوں میں پوشیدہ ہے۔
وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کے ایک بیان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اجلاس کے آخری روز اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ نے اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے اپنے تمام تر وسائل کا استعمال کیا ہے۔
بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان پالیسیوں کی اہمیت پر زور دیا جو عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرتی ہیں۔
جی 20 ملکوں کے اجلاس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا کہ کرونا کی عالمی وبا کے نتیجے میں امیر اور غریب میں مزید تقسیم پیدا ہو گی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے یورپ نے ایک عالمی پراجیکٹ کے لیے 4.5 ارب ڈالر کی امداد پر زور دیا جس کے تحت ویکسین، ٹیسٹ ا ور علاج معالجے میں پیش رفت اور ان کی تقسیم میں تیزی لائی جا سکے گی۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق روس، جرمنی اور چین نے ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرازینیکا کا بھی ویکسین تیار کرنے کا دعویٰ
برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرازینیکا نے کہا ہے کہ اس کی تیار کردہ کرونا وائرس ویکسین کی برطانیہ اور برازیل میں جانچ سے ظاہر ہوا ہے کہ یہ ویکسین وبا کو روکنے کے لیے انتہائی مؤثر ہے اور ویکسین لینے والے مریضوں کو اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
اس جانچ کے دوران رضاکار مریضوں کو ویکسین کی دو خوراکیں دی گئیں۔ پہلی خوراک سے کرونا وائرس کا 90 فی صد خاتمہ ہوا جب کہ دوسری خورک اوسطاً 70 فی صد تک کامیاب رہی۔
آسٹرازینیکا کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مزید اعدادوشمار اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ان کا تجزیہ جاری رہے گا جس سے اس ویکسین کے مؤثر ہونے کی صلاحیت کا زیادہ درستگی کے ساتھ اندازہ ہو سکے گا۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں ویکسین کی جانچ کے شعبے کے چیف انویسٹی گیٹر پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے بیان میں کہا ہے کہ نتائج سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے پاس اب ایک ایسی مؤثر ویکسین موجود ہے جس سے زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔
آسٹرازینیکا کا کہنا ہے کہ وہ اس ویکسین کو کم آمدنی والے ممالک کو ہنگامی بنیادں پر فراہم کرنے کے لیے عالمی ادارۂ صحت سے اجازت حاصل کرے گی۔