پاکستان میں کرونا سے مزید دو ہزار آٹھ سو افراد متاثر
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے مزید 2829 افراد متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 95 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وبا سے متاثر 3 لاکھ 40 ہزار کے لگ بھگ افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ زیرِ علاج افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں زیرِ علاج افراد کی تعداد 47 ہزار 390 ہو چکی ہے۔ جب کہ زیرِ علاج افراد میں سے 2 ہزار 186 افراد انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
تھینکس گیونگ: لاکھوں امریکیوں کا دوسرے شہروں کا سفر
اس سال امریکیوں سے طبی ماہرین ایک ہی اپیل کر رہے ہیں کہ تھینکس گیونگ پر اپنے پیاروں سے دور رہیں اور اگر ملیں بھی تو فاصلے سے ملیں تاکہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔ لیکن ان ہدایات کے باوجود لاکھوں امریکی اس ہفتے سفر کر رہے ہیں تاکہ یہ تہوار اپنے پیاروں کے ساتھ منا سکیں۔ تفصیلات اس رپورٹ میں۔
پاکستان میں نومبر میں 885 اموات
پاکستان میں کرونا وائرس سے رواں ماہ 885 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ اموات کی مجموعی تعداد آٹھ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 43 افراد وبا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں کرونا وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 7985 ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ نومبر میں پاکستان میں اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور ملک بھر میں 885 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
برطانیہ: غلطی سے 1300 افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت آ گئے
برطانیہ میں وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ کرونا ٹیسٹ کرنے والے حکومتی ادارے ‘این ایچ ایس’ کی لیبارٹری میں ہونے والی خرابی کے باعث غلطی سے 1300 سے زائد افراد کے کرونا ٹیسٹ مثبت ظاہر کر دیے گئے۔
این ایچ ایس کے مطابق 1311 ایسے افراد میں غلطی سے کرونا وائرس کی تشخیص کی گئی تھی۔ جن کے ٹیسٹ رواں ماہ 19 سے 23 نومبر کے درمیان کیے گئے تھے۔
ای میل کے ذریعے جاری کردہ بیان میں ادارے کا کہنا ہے کہ ٹیسٹنگ کیمیکلز میں ہونے والی خرابی کے باعث ان ٹیسٹوں کو رد کر دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیسٹوں میں خرابی کی تشخیص کے بعد مذکورہ افراد کو فوری طور پر مطلع کیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ وہ فوری طور پر اپنا ٹیسٹ دوبارہ کرائیں۔ بیان کے مطابق ان افراد سے کہا گیا ہے کہ اگر ان میں کرونا کی علامات پائی جاتی ہیں تو وہ اپنے آپ کو علیحدہ رکھیں۔
بیان کے مطابق لیبارٹری میں آنے والی خرابی کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔