ویکسین کی خریداری کے لیے سفارشات تیار کرلیں: اسد عمر
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور کرونا وائرس کی انسداد کے لیے قائم کمیٹی نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر کے مطابق کرونا ویکسین کی خریداری کے لیے سفارشات تیار کر لی ہیں۔
اسد عمر نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ این سی او سی کی سفارشات کل کابینہ کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔
اُن کے بقول ڈاکٹر فیصل سلطان کی سربراہی میں ایک ٹیم نے ویکسین کی خریداری سے متعلق سفارشات مرتب کی ہیں جس پر آج بات چیت کے لیے حتمی شکل دی ہے۔
نیویارک میں اسکول کھولنے کا اعلان
امریکہ کی ریاست نیویارک کے شہر نیویارک سٹی کے اسکول مرحلہ وار کھولنے اور کرونا ٹیسٹ کی تعداد بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
نیویارک کے میئر بل دی بلاسیو نے بذریعہ ٹوئٹ اعلان کیا کہ سات دسمبر سے ایلیمنٹری کلاسز میں تعلیمی سلسلے کو بحال کیا جا رہا ہے جب کہ دس دسمبر سے 75 اسکولوں میں تعلیمی کلاسز طلبہ کے لیے کھول دی جائیں گی۔
یاد رہے کہ نیویارک میں ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے اوائل میں کرونا کیسز میں کمی کے بعد تعلیمی ادارے کھولے گئے تھے جب کہ رواں ماہ کیسز میں اضافے کے بعد اسکولوں میں طلبہ کی موجودگی پر ایک مرتبہ پھر پابندی لگا دی گئی تھی۔
نیویارک کے شہریوں نے اسکول بند کرنے کے اقدام پر انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ ریستوران اور بارز کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے اور اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔
ایم کیو ایم کے رہنما عادل صدیقی انتقال کر گئے
پاکستان کی وفاقی حکومت میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عادل صدیقی کرونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔
عادل صدیقی کرونا کا شکار تھے اور گزشتہ چند روز سے کراچی کے نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ طبیعت بگڑنے پر اُنہیں گزشتہ روز وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔
عادل صدیقی رکنِ سندھ اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فیصل سبزواری نے ایک ٹوئٹ میں عادل صدیقی کے انتقال کی تصدیق کی اور ان کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔
کرونا وائرس: آسٹریلیا میں آٹھ ماہ بعد غیر ملکی طلبہ کی واپسی شروع
آسٹریلیا میں غیر ملکی طلبہ کے لیے تعلیمی سلسلہ ایک مرتبہ پھر بحال ہونے جا رہا ہے۔ لگ بھگ آٹھ ماہ بعد خصوصی پرواز کے ذریعے پیر کو غیر ملکی طالب علم آسٹریلیا کے شہر ڈارون پہنچے ہیں۔
آسٹریلیا میں کرونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں سرحدوں کی بندش کے باعث اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
تعلیمی سلسلے کو بحال کرنے کے لیے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت چارلس ڈارون یونیورسٹی کے 63 طلبہ پیر کو آسٹریلیا کے شمالی شہر ڈارون پہنچے۔
آسٹریلیا پہنچے والے طلبہ کا تعلق چین، ہانگ کانگ، جاپان، ویتنام اور انڈونیشیا سے ہے جو 14 روز تک حکومت کے قائم کردہ قرنطینہ مرکز میں رہیں گے۔
ڈارون یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں تعلیمی شعبے کی بحالی کے لیے یہ پہلا قدم ہے۔
یاد رہے کہ آسٹریلیا میں تعلیم کا شعبہ ملکی معیشت میں زرِ مبادلہ میں اضافے کا سبب بننے کا چوتھا بڑا ذریعہ ہے۔
گزشتہ برس آسٹریلیا میں پانچ لاکھ غیر ملکی طلبہ کا اندراج ہوا تھا جس سے 37 بلین ڈالرز کا ملکی معیشت میں اضافہ ہوا تھا۔
رواں برس جون میں یونیورسٹیوں نے کہا تھا کہ سرحدوں کی بندش کی وجہ سے تعلیم کے شعبے کو 11 بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔