رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:11 2.12.2020

امریکہ میں ویکسین کی ترسیل کی تمام تیاریاں مکمل

امریکہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کرونا ویکسین کی بحفاظت اور فوری ترسیل کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

منگل کو محکمے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سرکاری ایجنسیز نجی شعبے کے اشتراک سے ویکسین کی خوراکیں، تیاری کے مقامات سے ڈسٹری بیوشن پوائنٹس تک پہنچائیں گی۔

محکمے کا کہنا ہے کہ ویکسین کی ترسیل کے دوران درجۂ حرارت کو برقرار رکھنے اور ویکسین کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے خشک آئس اور لیتھیم بیٹریز کا استعمال کیا جائے گا۔

محکمے کا کہنا ہے کہ جنوری تک چار کروڑ امریکیوں تک ویکسین کی خوارکیں پہنچائیں جائیں گی جب کہ ہر ماہ دو کروڑ افراد تک ویکیسن پہنچائی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے ہیلتھ کیئر ورکرز اور بزرگ افراد کو ویکسین لگائی جائے گی۔

خیال رہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' نے ویکسین کی منظوری کے لیے امریکہ کے فوڈ اینڈ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے رجوع کر رکھا ہے۔

14:13 2.12.2020

بھارت میں ہر فرد کو ویکسین دینے کی ضرورت نہیں: حکام

فائل فوٹو
فائل فوٹو

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل بلرام بھارگو نے کہا ہے کہ اگر بھارت کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے اپنی ایک ارب 30 کروڑ آبادی کو ویکسین دینے کی ضرورت نہیں۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ویکسین بنانے والی تین کمپنیوں کے تفصیلی جائزے کے بعد ویکسین کی اہمیت پر زور دیا تھا جب کہ اکتوبر میں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت جیسے ہی ویکسین تیار کرتی ہے، ہر شہری تک اس کی رسائی ممکن بنا دی جائے گی۔

بھارت کی وزارتِ صحت کے سرِ فہرست بیوروکریٹ راجیش بھوشن نے بھی منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومت نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ بھارت کی تمام آبادی کو ویکسین دینا ہو گا۔

عالمی ادارۂ صحت کے ماہرین نے عندیہ دیا تھا کہ 65 سے 70 فی صد تک ویکسین بھارت کی پوری آبادی کے لیے کافی ہو گی۔

یاد رہے کہ بھارت کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں کرونا وائرس سے 94 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

13:11 2.12.2020

امریکہ میں سیلف آئسولیشن کا دورانیہ کم کرنے کا فیصلہ

امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگران ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے کرونا سے متاثرہ شخص سے میل جول رکھنے والے شخص کے لیے قرنطینہ کی مدت میں کمی کی سفارش کر دی ہے۔

سی ڈی سی کے مطابق اب ایسا شخص 14 روز کے بجائے سات سے 10 روز تک خود کو قرنطینہ کرنے کا پابند ہو گا۔

امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کے مطابق نئی گائیڈ لائنز کی سفارش 'سی ڈی سی' کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے منگل کو کرونا وائرس ٹاسک فورس کے اجلاس کے دوران کی۔

ایک سینئر اہلکار نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ' پریس کو بتایا کہ قرنطینہ کے دورانیے میں کمی کی گائیڈ لائنز پر کئی روز سے کام جاری تھا جس کا مقصد وائرس سے متاثرہ شخص سے رابطے میں آنے والے افراد کو جلد معمولاتِ زندگی بحال کرنے کی اجازت دینا ہے۔

مزید پڑھیے

13:04 2.12.2020

برطانیہ نے کرونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت دے دی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ اور جرمنی کی دوا ساز کمپنیوں نے کہا ہے کہ برطانیہ نے ان کی تیار کردہ کرونا ویکسین کی ہنگامی بنیاد پر استعمال کی اجازت دے دی ہے۔

امریکی کمپنی فائزر اور جرمن دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین پہلی ویکسین ہے جسے استعمال کی منظوری کسی ملک نے دی ہے۔

برطانوی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ انگلینڈ کے اسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آئندہ ہفتے سے کرونا ویکسینیشن کے لیے اپنے عملے کو تیار رکھیں۔

فائزر کے سی ای او البرٹ بورلا نے برطانیہ کے فیصلے کو تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اعلیٰ کوالٹی کی ویکسین دنیا بھر میں سپلائی کے لیے پرعزم ہیں۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی رپورٹ کے مطابق برطانوی ریگولیٹر ایسٹرازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے بننے والی ویکسین کی منظوری پر بھی غور کر رہے ہیں۔

فائزر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ برطانیہ کو فوری طور پر ویکسین کی محدود سپلائی شروع کر دے گی اور اگر امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے بھی ویکسین کی منظودی دی تو بڑے پیمانے پر سپلائی شروع کر دی جائے گی۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG