روس میں شہریوں کو بڑے پیمانے پر ویکسین لگانے کا عمل شروع
روس کے دارالحکومت ماسکو میں کرونا ویکسین لگائے جانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
ماسکو کے 70 کلینکس کے ذریعے ہفتے کو کرونا ویکسین لگائے جانے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔
روس دنیا میں پہلا ملک بن گیا ہے جہاں اس عالمی وبا سے بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسین لگانا شروع کی گئی ہے۔
وبا سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں روسی ساختہ ویکسین ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو لگائی جائے گی جس کے بعد اساتذہ اور سماجی اہلکاروں کو ویکسین دی جائے گی۔
روس میں کرونا وبا کا گڑھ سمجھے جانے والے شہر ماسکو میں پانچ گھنٹوں کے دوران پانچ ہزار اساتذہ، ڈاکٹرز اور سماجی اہلکاروں نے کرونا ویکسین کے لیے درخواستیں دیں۔
خیال رہے کہ ماسکو میں شہریوں کو لگائی جانے والی کرونا ویکسین اسپتنک فائیو روسی مقامی طور پر تیار کی گئی ہے۔ جب کہ ایک اور ویکسین سائبیریا کے ادارے نے بھی بنائی ہے۔ ان دونوں ویکسینوں کے حتمی آزمائشی نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔
جنوبی کوریا میں مزید 583 کیسز رپورٹ
جنوبی کوریا میں ہفتے کو کرونا وائرس کے مزید 583 کیسز رپورٹ کیے گئے۔ جن میں سے زیادہ تر کیسز دارالحکومت سول اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں رپورٹ ہوئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سول میں 235 کیسز رپورٹ کیے گئے۔ جہاں ملک کی لگ بھگ نصف آبادی رہائش پذیر ہے۔
کرونا کیسز میں اضافے کے باعث ہفتے سے پابندیاں سخت کی جا رہی ہیں۔ جن کے مطابق دکانیں رات نو بجے بند ہوں گی اور شام کے اوقات میں 30 فی صد ٹرانسپورٹ بھی کم کر دی جائے گی۔
جنوبی کوریا میں اب تک 36 ہزار سے زائد افراد میں وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔ جب کہ وبا کے سبب 540 اموات ہوئی ہیں۔
پاکستان میں عالمی وبا کے خاتمے کے لیے 'یومِ دعا'
پاکستان میں کرونا وائرس کی عالمی وبا کے خاتمے کے لیے جمعے کو 'یومِ دعا' منایا گیا۔ مساجد میں نمازِ جمعہ کے بعد اس وبا سے بچاؤ اور نجات کے لیے دعائیں مانگی گئیں۔
'دنیا کرونا وائرس سے چھٹکارے کے خواب دیکھ سکتی ہے'
عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین کے مثبت نتائج سامنے آنے کے بعد دنیا وبا سے چھٹکارے کا خواب دیکھ سکتی ہے۔
جمعے کو ٹیڈروس کا مزید کہنا تھا کہ ایسی صورتِ حال میں امیر ممالک کو ویکسین حاصل کرنے کی دوڑ میں غریب اور پسماندہ ملکوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وبا سے متعلق خصوصی اجلاس سے خطاب میں ٹیڈروس کا ممالک کا نام لیے بغیر کہنا تھا کہ وبا کے دوران جن ملکوں میں سائنس، سازشی نظریات کی بھینٹ چڑھ گئی، جہاں آپس میں تقسیم پیدا کی گئی، جہاں ذاتی مفادات کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا، ان ممالک میں کرونا وائرس زیادہ مہلک ثابت ہوا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا ویکسین کے حصول سے بنیادی مسائل جیسے غربت، بھوک، عدم مساوات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات ختم نہیں ہوں گے۔ جو کہ بنیادی طور پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنے۔