صدر ٹرمپ کے وکیل کرونا کے شکار
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور اُن کے وکیل روڈی جولیانی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک ٹوئٹ میں کہا کہ نیویارک کی تاریخ کے عظیم میئر اور امریکی صدارتی انتخابات میں مبینہ انتخابی دھاندلی کا مقدمہ لڑنے والے روڈی جولیانی چین کے وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کرونا وائرس کو چین کا پیدا کردہ وائرس قرار دیتے ہیں۔
یہ واضح نہیں ہے کہ جولیانی کا کرونا ٹیسٹ کب مثبت آیا اور ان میں کرونا کی کیا علامات پائی گئی ہیں۔ البتہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 76 سالہ جولیانی کو علاج کے لیے واشنگٹن کے جارج ٹاؤن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر میں منتقل کیا گیا تھا۔
گزشتہ ہفتے جولیانی کو مختلف ریاستوں میں ری پبلکن حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں بغیر ماسک لگائے دیکھا گیا تھا۔
جولیانی بھی وائٹ ہاؤس کی اس فہرست میں شامل ہو چکے ہیں جو کرونا وائرس سے شکار ہوئے۔ صدر ٹرمپ بھی اس وبا کا شکار ہونے کے بعد اسپتال میں داخل ہو چکے ہیں
جنوبی افریقہ: انگلش کرکٹ اسکواڈ کے دو اراکین کے کرونا ٹیسٹ مثبت
انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڑ نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی افریقہ میں موجود کرکٹ ٹیم کے دو اراکین کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ تاہم بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ مزید تصدیق کے لیے کھلاڑیوں کے دوبارہ ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق برطانوی کرکٹ بورڈ کی طرف سے اتوار کو جاری کردہ بیان میں وبا سے متاثر ہونے والے دو افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ دونوں اراکین کھلاڑی ہیں یا ٹیم آفیشلز۔
خیال رہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلا ایک روزہ میچ کیپ ٹاؤن میں شیڈول تھا۔ تاہم میچ شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ایک جنوبی افریقن کھلاڑی کا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد میچ اتوار کو جنوبی افریقہ کے شہر پارل میں منتقل کر دیا گیا تھا۔
دریں اثنا کیپ ٹاؤن میں ہوٹل کے عملے کے دو اہلکاروں کے ٹیسٹ مثبت آنے پر ہفتے کی شب تمام کھلاڑیوں کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ حالاں کہ جنوبی افریقن کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں، میچ آفیشلز اور ہوٹل کے عملے کو بائیو سیکیور ماحول میں رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
برطانوی کرکٹ بورڈ کے مطابق جب تک طبی ٹیم کی طرف سے ہدایات نہیں دی جاتیں، کھلاڑی اور ٹیم آفیشلز کمروں تک محدود رہیں گے۔
برطانیہ کے دورۂ جنوبی افریقہ کے دوران تین ساؤتھ افریقن کھلاڑیوں میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جن کے نام افریقی بورڈ کی جانب سے ظاہر نہیں کیے گئے۔
رپورٹرز ڈائری: امریکہ میں کرونا کا شکار ہونے والی خاتون صحافی کی کہانی
امریکہ کے صدارتی انتخاب کے بعد تیسرا دن تھا جب مجھے دفتر سے فون آیا کہ آپ کو ریاست ڈیلاویئر میں جو بائیڈن کے الیکشن ہیڈ کوارٹر جانا ہے۔ میں اگلے دو گھنٹے میں روانگی کے لیے تیار تھی۔
ڈیلاویئر پہنچ کر سامان ہو ٹل میں رکھا اور بائیڈن کے الیکشن ہیڈکوارٹر پہنچی۔ شام ہو چکی تھی اور سردی بڑھ رہی تھی۔ دنیا بھر کا میڈیا جمع تھا۔ ایک بہت بڑا اسٹیج بھی سجایا گیا تھا۔ الیکشن کے دوران جو بائیڈن اکثر یہاں تقریر کرنے پہنچ جاتے۔ اس شام بھی توقع کی جا رہی تھی کہ بائیڈن وہاں آئیں گے اور میڈیا سے گفتگو کریں گے۔
دوسرے دن صبح ساڑھے چھ بجے میں پھر وہاں تھی۔ لائیو براڈکاسٹ سے فارغ ہوئی تو تھکن محسوس ہوئی اور کھانسی بھی آنے لگی۔ کھانسی پورا دن وقفے وقفے سے ہوتی رہی مگر زیادہ نہیں تھی۔ کمزوری کے ساتھ ساتھ جسم میں درد بھی ہوتا رہا۔ میں نے سوچا شاید الیکشن میں مسلسل کام کی وجہ سے تھکاوٹ ہے اور سردی بھی ہے۔ اس لیے ایسا محسوس ہو رہا ہے۔ لیکن جسم میں درد بدستور تھا اور لگ رہا تھا جیسے بخار ہو۔ قریبی میڈیکل اسٹور گئی اور درد اور بخار کی دوائی خریدی۔
خیبر پختونخوا: آکسیجن نہ ملنے سے کرونا کے سات مریض ہلاک
صوبہ خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور کے تین بڑے اسپتالوں میں شامل خیبر ٹیچنگ اسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث کرونا وائرس سے متاثرہ سات مریض دم توڑ گئے۔
ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب پیش آیا۔
اسپتال کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو ہلاکتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے مریضوں کو آکسیجن کی متواتر سپلائی بحال نہ رہ سکی، جس کے سبب مریض دم توڑ گئے۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ خیبر ٹیچنگ اسپتال میں اکسیجن کی کمی کے سبب دیگر وارڈز کے مریض بھی متاثر ہوئے ہیں۔
خیبر ٹیچنگ اسپتال کے ترجمان فرہاد خان کا کہنا ہے کہ اسپتال کو قریبی شہر روالپنڈی سے آکسیجن فراہم کی جاتی ہے اور راولپنڈی سے آکسیجن کے سلنڈر بروقت نہ پہنچ سکے جس کی وجہ سے یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔
ترجمان کا کہنا ہے سردی کے سبب مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے بقول آکسیجن سیلنڈر کی تاخیر سے متعلق معلومات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے سرکاری طور پر جاری کردہ بیان میں اس واقع کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور متعلقہ حکام کو فوری طور پر تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔