جرمنی: جنوری میں کرونا ویکسینیش کا امکان
جرمن چانسلر اینگلا مرخیل کے چیف آف اسٹاف نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ برس جنوری کے ابتدائی ایام میں ہی ملک میں کرونا ویکسینیشن کا عمل شروع ہو جائے گا۔
یورپی یونین کے حکام کی جانب سے 29 دسمبر کو کرونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دیے جانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل ہی جرمنی نے خصوصی ویکسینیش سینٹر قائم کر لیے ہیں۔
جرمن چانسلر کے چیف آف اسٹاف ہیلگے برین نے مقامی اخبار کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ میڈیکل حکام کی معاونت کرنے کے لیے تیار ہیں اور جب ویکسین لینے کے لیے ہمارا نمبر آئے گا تو اینگلا مرخیل کو بھی ویکسین دی جائے گی۔
جرمنی میں کرونا کیسز میں کبھی اضافہ تو کبھی کمی واقع ہو رہی ہے جب کہ دو نومبر سے ملک میں جزوی لاک ڈاؤن بھی نافذ ہے جو 10 جنوری تک جاری رہے گا۔
برطانیہ: کرونا ویکسین کی پہلی خوارک رواں ہفتے دی جائے گی
برطانیہ میں کرونا وائرس کی ویکسین کی پہلی خوارک رواں ہفتے دی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں یہ ویکسین نرسنگ ہومز میں مقیم افراد، طبی عملے اور 80 سال سے زائد عمر کے افراد کو دی جائے گی۔
برطانیہ میں 50 بڑے اسپتالوں کو ویکسین کی تقسیم کے لیے چنا گیا ہے جہاں پیر سے ویکسین کی خوراکوں کی فراہمی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ نے گزشتہ ہفتے امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمن کمپنی 'بائیو اینڈ ٹیک' کی مشترکہ طور پر تیار کردہ کرونا ویکسین کی منظوری دی تھی۔
برطانیہ ہنگامی صورتِ حال میں کرونا ویکسین کے استعمال کی منظوری دینے والا پہلا ملک ہے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر چار کروڑ خوارکوں کا آرڈر دیا ہے جو دو کروڑ افراد کو دو مراحل میں لگائی جائے گی۔
برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق ویکسین کی مزید خوراکیں موصول ہونے کے بعد تقسیم کے بھی مزید مراکز قائم کیے جائیں گے۔
پاکستان میں کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح سات اعشاریہ نو فی صد پر پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 3795 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ 39 ہزار سے زیادہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔
عالمی وبا کے شکار مزید 37 مریضوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات کی کل تعداد 9398 ہو گئی ہے اور اب بھی 2539 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
پاکستان میں کرونا کیسز کی کل تعداد چار لاکھ 20 ہزار سے زیادہ ہے جن میں سے تین لاکھ 56 ہزار سے زیادہ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔