امریکہ کی صورتِ حال کو 'بھاری دل' سے دیکھ رہے ہیں: چین
چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ بیجنگ امریکہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو "بھاری دل" سے دیکھ رہا ہے۔
کرونا وائرس کی ابتدا چین کے شہر ووہان سے ہوئی تھی۔ ناقدین چین پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ اس نے وبا سے متعلق فوری اور درست اقدام نہیں کیے جس کے باعث یہ دنیا بھر میں پھیلی اور پندرہ لاکھ سے زائد زندگیاں نگل گئی۔
چین ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ اس نے ووہان میں 76 روز کا لاک ڈاؤن کیا اور اس کے علاوہ کئی سخت اقدام کیے۔ جس کے باعث دنیا کو موقع ملا کہ وہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے تیار ہو سکے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہوا چن ینگ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے بہت جامع، سخت اور وبا کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اقدامات اٹھائے ہیں۔ ہم نے ملک میں وبا کو کنٹرول کیا اور کاروبارِ زندگی دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم امریکہ میں کرونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق رپورٹس کو بھاری دل سے دیکھ رہے ہیں اور اس مشکل صورتِ حال میں امریکی شہریوں سے اظہارِ ہمدردی اور تعزیت کرتے ہیں۔
کرونا کیسز کے باعث انگلینڈ کا دورۂ جنوبی افریقہ ختم
کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد انگلینڈ کرکٹ ٹیم کا دورۂ جنوبی افریقہ ختم کر دیا گیا ہے۔
ون ڈے سیریز سے قبل دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف میں کرونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد دورے کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔
دونوں ٹیموں کے درمیان جمعے کو کیپ ٹاؤن تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ کھیلا جانا تھا۔ تاہم ٹیم ہوٹل میں اسٹاف کے دو اراکین کے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر میچ اتوار کو پارل منتقل کر دیا گیا۔
البتہ ہفتے کی شب انگلینڈ کرکٹ ٹیم اور اسپورٹ اسٹاف کے دوبارہ ٹیسٹ کیے گئے جن میں دو اراکین کے ٹیسٹ مثبت آئے جس کے بعد اتوار کے میچ کو بھی پیر تک ملتوی کر دیا گیا۔
قبل ازیں انگلینڈ کرکٹ اسکواڈ کے ترجمان نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں نے پہلے ایک روزہ میچ کے لیے پریکٹس سیشن کے دوران پروٹوکول کی خلاف ورزی کی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ تربیت کے دوران اُنہیں اجازت دی گئی تھی کہ وہ نیٹس کے اطراف حفاظتی حصار قائم کر سکتے ہیں۔
دونوں کرکٹ بورڈز کے مطابق کھلاڑیوں کی صحت اُن کی پہلی ترجیح لہذٰا دورے کو ختم کیا جا رہا ہے۔
کرونا وائرس: بھارتی کشمیر میں شادیوں کی رونقیں بھی ماند
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں شادی بیاہ اور خوشی کے مواقع پر نظر آنے والا مہمان نوازی کا روایتی انداز کرونا وائرس کی عالمی وبا نے بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب شادیوں میں پہلے جیسی رونقیں ہیں اور نہ مہمانوں کے لیے روایتی 'وازوان' پکانے کی وہ دوڑ دھوپ جن کے بغیر تقریبات ادھوری سمجھی جاتی ہیں۔ سرینگر سے زبیر ڈار کی رپورٹ۔