برطانیہ: کرونا ویکسین کے استعمال کا آغاز، طبی عملہ اور بزرگ پہلی ترجیح
برطانیہ میں شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کا عمل منگل سے شروع کر دیا گیا ہے جب کہ حکام نے اس دن کو 'وکٹری ڈے' قرار دیا ہے۔
منگل کی صبح 90 سالہ معمر خاتون مارگریٹ کینن کو سب سے پہلے کرونا ویکسین لگائی گئی جب کہ صبح سویرے پرُخطر ماحول میں خدمات جاری رکھنے والے ہیلتھ ورکرز اور سماجی خدمت کے شعبے سے وابستہ اسٹاف کے 80 سے زیادہ افراد ویکسین لگوانے کے لیے قطار میں کھڑے نظر آئے۔
منگل کو پہلی خوراک لینے والوں کو دوسری خوارک 21 دن بعد دینا ضروری ہے۔
برطانیہ، گزشتہ ہفتے دنیا کا پہلا ملک بن گیا تھا جب اس نے 'فائزر اور بائیو این ٹیک' کی تیار کردہ ویکسین کی منظوری دی تھی۔
برطانیہ میں سب سے پہلے جو لوگ ویکسین لگوا رہے ہیں ان میں نیشنل ہیلتھ سروس، نرسنگ ہومز میں موجود معمر افراد اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا عملہ شامل ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کا نیوزی لینڈ میں قرنطینہ کا مشکل وقت گزر گیا
نیوزی لینڈ کے دورے پر موجود پاکستان کرکٹ ٹیم کے سفر کا تکلیف دہ مرحلہ اب ختم ہو گیا ہے۔ تقریباً دو ہفتے آئسولیشن یعنی قرنطینہ میں رہنے کے بعد کھلاڑیوں کو ٹریننگ کا پروانہ مل گیا جس کے بعد 53 میں سے 52 ارکان کرائسٹ چرچ سے کوئنز ٹاؤن منتقل ہو جائیں گے جہاں اُن پر ایس او پیز لاگو نہیں ہوں گے۔
پاکستان ٹیم کو ٹریننگ کی اجازت ملنا اس لیے خوش آئند ہے کہ ایک موقع پر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ مہمان ٹیم ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ سیریز کھیلے بغیر ہی وطن واپس لوٹ جائے گی۔
نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے مطابق اتوار کو پاکستانی اسکواڈ کا کرونا ٹیسٹ منفی آیا تھا تاہم ایک کھلاڑی اب بھی اپنی آئسولیشن کی مدت کرائسٹ چرچ ہی میں پوری کرے گا اور مدت مکمل کرتے ہی جمعرات کو کوئنز ٹاؤن میں موجود اسکواڈ جوائن کر لے گا۔
امریکہ میں کرونا ویکسین کی منظوری کی درخواستیں زیرِ غور
امریکہ کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کرونا وائرس کے خلاف ویکسین کے عام استعمال سے متعلق فیصلہ آئندہ چند روز دے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ویکسین کی ہنگامی بنیادوں پر منظوری نئی بات نہیں اور کرونا ویکسین کی تیاری کے مراحل میں حکام کو مستقل اعتماد میں لیا گیا ہے۔ صبا شاہ خان کی رپورٹ۔
عالمی ادارۂ صحت نے امریکہ میں کرونا کی صورتِ حال کو خطرناک قرار دے دیا
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امریکہ میں کرونا وائرس اور اس سے پیدا ہونے والی صحتِ عامہ کی صورتِ حال کو خطرناک قرار دیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ایمرجنسی رسپانس ڈائریکٹر مائیک ریان نے پیر کو بریفنگ کے دوران امریکہ میں رپورٹ ہونے والے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران دنیا بھر میں رپورٹ ہونے والے کیسز کا ایک تہائی امریکہ میں رپورٹ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی وبا امریکہ میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ ہر گزرتے منٹ میں ایک سے دو اموات ہو رہی ہیں۔
ریان نے کہا کہ یہ صورتِ حال اس ملک کی ہے جہاں صحتِ عامہ کا نظام مضبوط ہے اور جو زبردست قسم کی ٹیکنالوجی رکھتا ہے۔