امریکہ: بے روزگاری کے باعث امداد کے حصول کے لیے درخواستوں میں اضافہ
امریکہ میں روزگار کے مواقع کم ہونے پر امداد کے حصول کے لیے شہریوں کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواستوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق گزشتہ ہفتے امداد کے حصول کے لیے 8 لاکھ 53 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں۔ جو کہ ستمبر کے بعد موصول ہونے والی سب سے زیادہ درخواستیں ہیں۔
اس قدر بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہونے کی وجہ کرونا وبا کی دوسری لہر کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ مختلف کمپنیوں کی جانب سے ملازمتوں میں کمی کیا جانا بتایا جا رہا ہے۔
لیبر ڈپارٹمنٹ کے مطابق دو ہفتے قبل تک 7 لاکھ 16 ہزار کے قریب درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ وبا کی پہلی لہر کے پھیلاؤ مین اضافے سے قبل تک امریکہ میں ہفتہ وار اوسطاََ سوا دو لاکھ تک امداد کے حصول کے لیے درخواستیں موصول ہوتی تھیں۔
پاکستان میں مزید 56 اموات، تین ہزار افراد متاثر
پاکستان میں کرونا وائرس سے مزید تین ہزار افراد کے متاثر ہونے جب کہ 56 افراد کی اموات کی اطلاعات ملی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 56 افراد وبا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 8603 ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں وبا سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 3138 افراد متاثر ہوئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 29 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ ان میں سے 3 لاکھ 74 ہزار افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 46 ہزار 376 افراد زیرِ علاج ہیں جن میں سے 2575 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
برطانیہ میں کرونا ویکسی نیشن جاری
برطانیہ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین مہم جاری ہے۔ یہ ویکسین امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمنی کی بائیو اینڈ ٹیک کمپنی نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔ برطانوی حکومت کی میڈیکل ریگولیٹری ایجنسی نے اس ویکسین کے ہنگامی طور پر استعمال کی اجازت گزشتہ ہفتے دی تھی۔
آکسفرڈ اور ایسٹرازینیکا کی کرونا ویکسین محفوظ اور مؤثر ہونے کا دعویٰ
برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی کے محققین اور دوا ساز کمپنی 'ایسٹرازینیکا' نے منگل کو ایک ریسرچ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی تیار کردہ ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے۔
ماہرین کی نگرانی میں کی گئی اس ریسرچ کو برطانوی میڈیکل جرنل دی لانسیٹ میں شائع کیا گیا۔
ریسرچ کے مطابق ڈیٹا سے یہ معلومات حاصل ہوئیں کہ یہ ویکسین 70.4 فی صد تک مؤثر ہے جو امریکہ کی 'فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن' (ایف ڈی اے) کی جانب سے مقرر کردہ 50 فی صد کی حد سے زیادہ ہے۔
خیال رہے کہ امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور جرمن کمپنی 'بائیو این ٹیک' کے اشتراک سے تیار ہونے والی ویکسین کا برطانیہ میں استعمال جاری ہے۔
دوسری جانب ایک اور امریکی کمپنی 'موڈرنا' کی تیار کردہ ویکسین امریکہ اور یورپ میں منظوری کی منتظر ہے۔
موڈرنا نے اپنی ویکسین کے 90 فی صد سے زیادہ اثر پذیر ہونے کا دعویٰ کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ آکسفرڈ اور ایسٹرازینیکا کے تعاون سے بنائی جانے والی ویکسین قدرے کم قیمت اور اس کی ترسیل باقی ویکسینز سے آسان قرار دی جا رہی ہے۔