امریکہ میں کرونا ویکسین کے استعمال کی منظوری
امریکہ میں انتظامیہ نے جمعے کو کرونا وائرس کی پہلی ویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی کمپنی فائزر اور جرمن کمپنی بائیو این ٹیک کے تعاون سے بنائی جانے والی ویکسین کی منظوری فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ویکسین کی منظوری کو سراہتے ہوئے اسے طبی معجزہ قرار دیا ہے۔
جمعے کو اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ فائزر کی اس ویکسین کی پہلی خوراک آئندہ 24 گھنٹے میں دی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ یہ ویکسین تمام امریکیوں کے لیے مفت ہو گی۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ ویکسین لاکھوں زندگیاں بچانے میں کام آئے گی اور جلد ہی عالمی وبا مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
کیلی فورنیا: کرسمس پر لوگوں کو گھروں میں رہنے کے احکامات
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور ہر روز ہزاروں نئے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر ریاست کی تقریباً 80 فی صد آبادی کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ لیکن کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ پابندیاں غیر منصفانہ ہیں۔ تفصیلات دیکھیے اس رپورٹ میں۔
پاکستان میں بے روزگاری کی لہر خطرناک رجحان کی جانب اشارہ ہے: معاشی ماہرین
دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس سے معاشی سست روی اور شرح نمو تاریخی زوال کا شکار ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق بے روزگاری کی شرح بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ماہرین معاشیات کے خیال میں بے روزگاری کی موجودہ لہر خطرناک رجحان کی جانب ایک اشارہ ہے۔
کئی ماہرینِ معاشیات اس بارے میں جو اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں کُل افرادی قوت میں سے بے روزگاری کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
سابق وفاقی وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت لگ بھگ 6 کروڑ 70 لاکھ افرادی قوت ہے۔ جس میں سے اگر ایک کروڑ 85 لاکھ لوگ بے روزگار ہوجائیں تو یہ تعداد 25 فی صد کے قریب بنتی ہے اور ملکی تاریخ میں اس سے قبل بے روزگار لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کا کبھی اندازہ نہیں لگایا گیا۔
وائس آف امریکہ سےگفتگو میں ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا تھا پاکستان اس وقت معاشی جمود اور افراطِ زر کی بڑھتی ہوئی کیفیت کا شکار ہے۔
ان کے خیال میں معاشی جمود کے نتیجے میں بے روزگاری اور افراطِ زر میں حالیہ اضافے کے باعث ایک کروڑ 70 لاکھ کے قریب گھرانے غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے اور ایسا ہماری تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔
جنوبی کوریا میں یومیہ کیسز میں ریکارڈ اضافہ
جنوبی کوریا میں کرونا وائرس کے مزید 950 کیسز رپورٹ کیے گئے۔ جو کہ وبا پھوٹنے کے بعد رپورٹ کیے جانے والے یومیہ کیسز کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
ملک میں بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد دارالحکومت سول کے اسپتالوں میں گنجائش ختم ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا کے وبا سے نمٹنے والے سرکاری ادارے کے ہفتے کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کل کیسز کی تعداد 41 ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 15 دن میں 8 ہزار 900 سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔
جنوبی کوریا میں 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی 6 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 578 ہو چکی ہے۔
محکمۂ صحت کے مطابق اسپتالوں، ریستورانوں، اسکولوں اور آرمی یونٹس سے کرونا کیسز سامنے آ رہے ہیں۔