پیرس میں رات کا کرفیو نافذ
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کرونا وائرس کے باعث منگل سے رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
فرانس میں منگل کو ایک جانب عوام کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی تو وہیں رات کا کرفیو نافذ کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔ لوگوں کو دن کے اوقات میں تمام سرکاری کام، سفر، شاپنگ، علاج معالجے اور ورزش کی غرض سے باہر نکلنے اجازت ہو گی۔ لیکن رات میں یہ تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
کرفیو رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک نافذ رہا۔ اس دوران تمام دکانیں اور شاپنگ مالز مکمل طور پر بند تھے۔
کرفیو سے کچھ دیر پہلے شہر کے مرکزی مقامات پر لوگوں کا رش ختم ہو چکا تھا۔ گلیوں اور سڑکوں پر کچھ راہ گیر موجود تھے جن میں سے زیادہ تر اپنے گھر پہنچنے کے لیے میٹرو اسٹیشن کا رخ کر رہے تھے۔
عہدے داروں نے متنبہ کیا ہے کہ وہ نئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائیں گے۔ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر 135 یورو کا جرمانہ عائد کیا جائے گا جو 164 ڈالر کے مساوی رقم ہے۔
فرانس میں گزشتہ ماہ وبائی مرض کی دوسری لہر نے شدت اختیار کی تھی لیکن اب نئے کیسز کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ البتہ سائنس دانوں نے تیسری لہر کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوگ کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات کے دوران احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کریں گے تو صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
آسٹریلیا میں دو ہفتوں بعد کرونا وائرس کا نیا کیس رپورٹ
آسٹریلیا کی سب سے گنجان آباد ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں تقریباً دو ہفتے بعد کرونا وائرس کا ایک نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ متاثرہ شخص ایئرپورٹ پر ملازم ہے۔
نیا کیس سامنے آنے کے بعد حکام نے تجویز دی ہے کہ ملک میں آنے والی تمام بین الاقوامی پروازوں کے عملے کو بھی آسٹریلیا پہنچنے کے بعد قرنطینہ میں رکھا جائے۔
نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِ صحت بریڈ ہیزرڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ 'کووڈ 19' کا شکار 45 سالہ شخص ایئرپورٹ پر بین الاقوامی مسافروں کے لیے چلائی جانے والی شٹل کا ڈرائیور ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ 48 گھنٹوں میں بین الاقوامی ایئر لائنز سے رابطہ کرے گی تاکہ عملے کے لیے قرنطینہ کے موجودہ قواعد میں تبدیلی کی تجویز دی جائے۔ ان کے بقول فی الحال اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ نیو ساؤتھ ویلز آنے والی تمام بین الاقوامی پروازوں کے عملے کو بھی مسافروں کی طرح قرنطینہ میں رکھا جائے۔
بیرون ملک سے آسٹریلیا آنے والے تمام مسافروں کو 14 روز تک قرنطینہ میں رہنا پڑتا ہے تاہم وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ ایئر لائنز کے عملے کے لیے 14 دن تک قرنطینہ میں رہنا لازمی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ 'کووڈ 19' لوگوں کے اجتماع کی صورت میں ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے۔ کرونا وائرس سے متاثرہ ہمارے زیادہ تر علاقے سرحدوں کے نزدیک واقع ہیں۔ ہم اگرچہ ایک جزیرہ ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اس وبا سے محفوظ نہیں ہیں جو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔
پاکستان: ہلاکتوں کی تعداد نو ہزار سے متجاوز
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے 105 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ تقریباً پانچ ماہ بعد پاکستان میں یومیہ ہلاکتیں 100 سے تجاوز کر گئی ہیں۔
پاکستان میں 30 جون کو کرونا وائرس سے 118 اموات رپورٹ ہوئی تھیں جس کے بعد اب منگل کو سو سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ ملک میں کرونا کی دوسری لہر کے دوران یومیہ اموات کی یہ ریکارڈ تعداد ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں منگل کو 2731 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 105 اموات واقع ہوئیں۔ کرونا وائرس سے ملک میں ہلاکتوں کی کل تعداد نو ہزار سے زیاہ ہو گئی ہے جب کہ کیسز چار لاکھ 45 ہزار 900 سے زیادہ ہو چکے ہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو ہزار 265 کرونا مریض وبا سے صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
امریکہ: کرونا ویکسین سب شہریوں تک کیسے پہنچے گی؟
امریکہ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ فائزر اور بائیو این ٹیک کی تیار کردہ ویکسین پہلے مرحلے میں بزرگ افراد اور طبی عملے کو دی جائے گی۔ مگر کرونا وائرس کی ویکسین عام شہری تک پہنچانے کی راہ میں کئی مشکلات حائل ہیں۔ تفصیلات بتا رہی ہیں صبا شاہ خان۔