رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

10:01 17.12.2020

بائیڈن کو اگلے ہفتے جب کہ پینس کو جمعے کو کرونا ویکسین لگے گی

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں شہریوں کو کرونا ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ وہیں اہم شخصیات اور سیاست دانوں کو بھی کرونا ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔

نومنتخب صدر جو بائیڈن کی ٹرانزیشن ٹیم کے مطابق بائیڈن کو اگلے ہفتے کرونا ویکسین لگائی جائے گی۔

امریکی حکام اس کوشش میں ہیں کہ اہم شخصیات اور سیاست دانوں کو ویکسین لگا کر اس پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نائب صدر مائیک پینس کو جمعے کو ویکسین لگائی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بائیڈن اور پینس کو اس لیے پہلے ویکسین لگائی جائے گی تاکہ اس ویکسین کے مؤثر اور مضر اثرات سے پاک ہونے سے متعلق عوامی تحفظات کو دُور کیا جا سکے۔

بدھ کو جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بائیڈن نے کہا کہ وہ ویکسین لگوانے کے لیے لائن نہیں توڑنا چاہتے بلکہ اسے جلد لگوانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو اس کی افادیت اور اس کے محفوظ ہونے کا ادراک ہو سکے۔

خیال رہے کہ 78 سالہ بائیڈن کرونا وائرس کے 'ہائی رسک' مریضوں کی کیٹیگری میں آتے ہیں جو وبا سے زیادہ بیمار ہو سکتے ہیں۔

نو منتخب صدر نے گزشتہ ماہ انتخابات میں کامیابی کے بعد کرونا وبا کے مقابلے کو اپنی پہلی ترجیح قرار دیا تھا۔ بائیڈن نے اس ضمن میں ٹاسک فورس کے قیام کے علاوہ تمام شہریوں کو ماسک پہننے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی تھی۔

خیال رہے کہ امریکہ میں اس مہلک وبا کے باعث اب تک تین لاکھ چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور یومیہ کیسز کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کو کرونا ویکسین اس وقت لگائی جائے گی جب اُن کے معالج سمجھیں گے کہ یہ بہترین وقت ہے۔ خیال رہے کہ صدر ؒٹرمپ اور اُن کی اہلیہ کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔

ابتداً امریکہ میں کرونا ویکسین طبی عملے، فرنٹ لائن ورکرز، نرسز اور نرسنگ ہوم میں مقیم ضعیف افراد کو ترجیحی بنیادوں پر لگائی جا رہی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام تک ویکسین کی 29 لاکھ مزید خوراکیں موصول ہو جائیں گی۔

خیال رہے کہ امریکہ میں امریکی دوا ساز کمپنی 'فائزر' اور جرمن کمپنی 'بائیو این ٹیک' کی منظوری دی گئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں اس کی ترسیل کا عمل جاری ہے۔

09:32 17.12.2020

پاکستان میں کرونا سے مزید 71 اموات

پاکستان میں کرونا وائرس کی دوسری لہر میں شدت آ رہی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 71 افراد اس مہلک وائرس کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2545 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد مجموعی کیسز چار لاکھ 48 ہزار سے بڑھ گئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کرونا کے 40 ہزار سے زائد ٹیسٹس کیے گئے ہیں۔ وائرس سے اب تک تین لاکھ 96 ہزار سے زائد افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

13:44 16.12.2020

امریکہ میں 20 منٹ میں نتائج دینے والے کرونا ٹیسٹ کی منظوری

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ میں 20 منٹ کے اندر نتائج دینے والے 'اوور دی کاؤنٹر' کرونا ٹیسٹ کی منظوری دے دی گئی ہے اور اس ٹیسٹ کے لیے ڈاکٹر کی تجویز یا کسی لیب کی ضرورت نہیں ہے۔

فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے فوری نتائج والے اس ٹیسٹ کی منظوری سے متعلق اعلان منگل کو کیا۔

ایف ڈی اے کمشنر اسٹیفن ایم ہان نے ایک پریس ریلیز میں اعلان کیا کہ منگل کو دی گئی منظوری کووڈ-نائنٹین کی ٹیسٹنگ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

'اوور دی کاؤنٹر' ٹیسٹنگ سے مراد یہ ہے کہ اس ٹیسٹ کے ذریعے ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر یا کسی لیب سے ٹیسٹ کرانے کے بجائے گھر بیٹھے ٹیسٹ کیا جا سکے گا۔

ٹیسٹنگ کی منظوری کے ذریعے ایف ڈی اے نے اس ریپڈ ٹیسٹ کی فارمیسیز یعن ادویات کے اسٹوروں پر فروخت کی بھی اجازت دی ہے جہاں لوگ یہ ریپڈ ٹیسٹ کٹ خرید سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

12:41 16.12.2020

پیرس میں رات کا کرفیو نافذ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کرونا وائرس کے باعث منگل سے رات کا کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

فرانس میں منگل کو ایک جانب عوام کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دی گئی تو وہیں رات کا کرفیو نافذ کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے۔ لوگوں کو دن کے اوقات میں تمام سرکاری کام، سفر، شاپنگ، علاج معالجے اور ورزش کی غرض سے باہر نکلنے اجازت ہو گی۔ لیکن رات میں یہ تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

کرفیو رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک نافذ رہا۔ اس دوران تمام دکانیں اور شاپنگ مالز مکمل طور پر بند تھے۔

کرفیو سے کچھ دیر پہلے شہر کے مرکزی مقامات پر لوگوں کا رش ختم ہو چکا تھا۔ گلیوں اور سڑکوں پر کچھ راہ گیر موجود تھے جن میں سے زیادہ تر اپنے گھر پہنچنے کے لیے میٹرو اسٹیشن کا رخ کر رہے تھے۔

عہدے داروں نے متنبہ کیا ہے کہ وہ نئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرائیں گے۔ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے پر 135 یورو کا جرمانہ عائد کیا جائے گا جو 164 ڈالر کے مساوی رقم ہے۔

فرانس میں گزشتہ ماہ وبائی مرض کی دوسری لہر نے شدت اختیار کی تھی لیکن اب نئے کیسز کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے۔ البتہ سائنس دانوں نے تیسری لہر کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوگ کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات کے دوران احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کریں گے تو صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG