پاکستان میں کرونا سے مزید 83 اموات
کرونا دنیا کے آخری حصے تک بھی پہنچ گیا، انٹارکٹیکا میں بھی کیس رپورٹ
کرونا کی عالمی وبا دنیا کے آخری حصے تک پہنچ گئی۔ برِاعظم انٹارکٹیکا میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے چلی کے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا کہ انٹارکٹیکا میں قائم ان کے ریسرچ سینٹر میں تعینات 36 اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 26 فوجی اور 10 سول کانٹریکٹر بھی شامل ہیں۔
یہ شدید سرد علاقہ سارا سال برف سے ڈھکا رہتا ہے اور یہاں درجہ حرارت بھی نقطۂ انجماد سے نیچے رہتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو دیگر افراد سے الگ کر دیا گیا ہے اور اُن کی نگرانی کی جا رہی ہے۔
انٹارکٹیکا کے انتہائی شمال میں واقع ریسرچ سینٹر میں اسٹاف سارا سال موجود رہتا ہے اور اسے چلی کی فوج آپریٹ کرتی ہے۔
جرمنی کی بھی برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے مسافروں کی آمد پر پابندی
جرمنی نے برطانیہ، شمالی آئر لینڈ اور جنوبی افریقہ سے مسافروں کی آمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے پابندیوں سے متعلق دستاویزات کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ریل، بس، بحری کمپنیوں اور ایئر لائنز سے مسافروں کو مذکورہ ممالک سے جرمنی آنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق برطانیہ میں مقیم جرمن شہری یکم جنوری 2021 سے وطن واپس آ سکیں گے۔ البتہ یہ اس صورت ممکن ہو سکے کہ اگر ایئر لائنز کو حکام نے آپریشنز کی اجازت دی۔
ٹوکیو اولمپکس: وائرس سے بچاؤ کے لیے 90 کروڑ ڈالر مختص
کرونا وائرس کے سبب 2020 کے دوران ملتوی ہونے والے اولمپکس 2021 میں جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں ہوں گے۔ تاہم ان مقابلوں کے دوران وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور حفاظتی انتظامات پر 90 کروڑ ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔
کرونا سے بچاؤ کے لیے بجٹ کا اعلان منگل کو ٹوکیو اولمپکس کے منتظمین نے مقابلوں کے لیے مختص نئے بجٹ میں کیا ہے۔
منتظمین نے ایک مرتبہ پھر اس بات اعادہ کیا کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات اور کھیلوں کے التوا کے سبب اخراجات کی لاگت میں مزید دو ارب 80 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔ جب کہ کھیلوں کے انعقاد پر مجموعی طور پر تقریباََ 15 ارب 40 کروڑ ڈالرز خرچ ہوں گے۔
منتظمین نے وبائی مرض کی وجہ سے رواں سال مارچ میں ہونے والے اولمپکس 2021 تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
منتظمین کے مطابق کرونا وائرس کے انسداد کے اقدامات میں پی سی آر ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر، کلینک کا قیام اور کھانے کے مراکز جیسے متعدد اقدامات شامل ہیں۔