کرونا ٹیسٹ کی شرط: افغان شہریوں کی طورخم کے راستے پاکستان آمد میں کمی
سرحدی گزر گاہ طور خم کے راستے پاکستان آنے والے افغان باشندوں کے لیے کرونا ٹیسٹ لازمی قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد سے افغانستان سے پاکستان آنے والوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔
چند روز قبل حکومتِ پاکستان نے طورخم کے راستے آنے والے افغان باشندوں کے لیے کرونا ٹیسٹ لازمی قرار دیا تھا۔
ضلع خیبر کے سرحدی قصبے لنڈی کوتل کے مکین صحافی ابو ذر آفریدی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر گزشتہ چار دن سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ تاہم اس فیصلے سے افغانستان سے پاکستان آنے والوں کی تعداد میں کافی کمی ہو گئی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں روزانہ افغانستان سے آنے والوں کی اوسطاََ تعداد چھ ہزار سے زیادہ تھی۔ مگر اب یہ تعداد گھٹ کر ایک ہزار سے 12 سو تک رہ گئی ہے۔
ٹیسٹ کی پابندی کا اطلاق سرحدی قصبے طورخم اور لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے مقامی مزدوروں پر بھی ہو رہا ہے۔ جو روزانہ کی بنیاد پر افغانستان آتے جاتے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف مزدور بھی تین دن سے احتجاج کر رہے ہیں۔
امریکہ میں 10 لاکھ افراد کو ویکسین دے دی گئی
امریکہ میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے منظور کی جانے والی ویکسین 10 لاکھ افراد کو دے دی گئی ہے۔
امریکہ کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) نے بدھ کی صبح مطلع کیا تھا کہ ملک بھر میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو منظور شدہ ویکسین کی پہلی خوارک دی جا چکی ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ کے متعدی امراض کے اعلیٰ ترین ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے منگل کو ٹی وی پر سب کے سامنے موڈرنا ویکسین کی خوراک لی تھی جب کہ نو منتخب امریکی صدر نے پیر کو ٹی وی پر فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کی تھی۔ ان اعلیٰ ترین شخصیات کے عوامی سطح پر ویکسین لینے کے اس اقدام کا مقصد شہریوں کی ویکسین لینے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
کرونا وبا اور جنوبی ایشیا کے صحافیوں کی مشکلات
دنیا بھر میں آزادیٔ صحافت پر نظر رکھنے والے ادارے 'رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز' کے ایشیا پیسیفک کے ترجمان ڈینئل بیسٹارڈ کہتے ہیں کہ کرونا وبا نے جنوبی ایشیا میں صحافت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ وی او اے کی نیلوفر مغل سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح لاک ڈاؤن کی خبر دینے والے خود خبر بن گئے۔
چین کا بھی برطانیہ کے لیے فلائیٹ سروس بند کرنے کا اعلان
چین نے بھی برطانیہ سے فلائیٹس کی آمد پر پابندی کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ چین برطانیہ سے طیاروں کی آمد اور روانگی پر پابندی عائد کر دے گا۔
واضح رہے کہ کئی ممالک پہلے ہی برطانیہ سے فلائیٹ سروس پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔ چین ان ممالک کی فہرست میں ایک اور اضافہ ہوگا۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ بیجنگ برطانیہ کے لیے فلائیٹ سروس پر پابندی کب سے عائد کر رہا ہے۔
ایسے افراد جن کے پاس چین کا پاسپورٹ نہ ہو ان پر بیجنگ نے نومبر میں ہی چین آمد پر پابندی عائد کر دی تھی۔