برطانیہ: ایمرجنسی اسپتال دوبارہ فعال، لندن میں اسکول پھر بند
برطانیہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم تیزی سے پھیلنے کے پیش نظر ایمرجنسی اسپتال دوبارہ فعال کیے جا رہے ہیں۔ یہ اسپتال وبا کی پہلی لہر کے دوران قائم کیے گئے تھے۔
دوسری جانب دارالحکومت لندن میں جمعے سے پرائمری اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔
وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق گزشتہ چار دن میں 50 ہزار سے زائد یومیہ کیسز رپورٹ ہونے کے سبب اندیشہ ہے کہ اسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھے گا اور مزید بستروں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
وزارتِ صحت کی طرف سے یہ خدشات لندن کے رائل اسپتال کی اہلکاروں کو ارسال کی گئی ای میل کے بعد سامنے آئے ہیں۔ اس ای میل میں کہا گیا تھا کہ اسپتال انتہائی نگہداشت کی اعلیٰ خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہے۔
لندن میں پھیلنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کے باعث جو کہ 70 فی صد زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے، پرائمری اسکول ایک بار پھر بند کر دیے گئے ہیں۔
پرائمری اسکول کھولنے کا فیصلہ دو دن قبل ہی کیا گیا تھا۔
برطانیہ میں اب تک وبا سے 74 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔
سال 2020 میں پاکستانی طلبہ کی مشکلات میں اضافہ
کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان میں طلبہ کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ آن لائن کلاسز نے طلبہ کو کتابوں سے تو جوڑا ہوا ہے لیکن یہ روایتی کلاس روم کا مؤثر متبادل ثابت نہیں ہو سکیں۔ گیتی آرا بتا رہی ہیں کہ 2020 میں طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو کن مشکلات کا سامنا رہا؟
پاکستان میں 35 ہزار سے زائد افراد زیرِ علاج
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وبا سے مزید 2184 افراد متاثر ہوئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وبا سے پاکستان میں 4 لاکھ 84 ہزار 362 افراد متاثر ہوئے جن میں سے 4 لاکھ 38 ہزار 974 صحت یاب ہو چکے ہیں۔ جب کہ حکام نے 10 ہزار 258 کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 35 ہزار 130 افراد اب بھی زیرِ علاج ہیں۔
زیرِ علاج افراد میں سے 2264 مریض انتہائی نگہداشت میں ہیں۔
حکام کے مطابق وبا سے متاثرہ افراد کی تشخیص کے لیے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 38 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے۔ جب کہ مجموعی طور پر 67 لاکھ 75 ہزار افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔
دسمبر میں 28 لاکھ امریکیوں کو ویکسین دی گئی، ہدف دو کروڑ تھا
دسمبر کی آخری تاریخ تک امریکہ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تقریباً 28 لاکھ لوگوں کو ویکسین دی جا سکی تھی، جب کہ حکومت نے دسمبر کے دوران دو کروڑ افراد کو ویکسین دینے کا ٹارگٹ مقرر کیا تھا۔
نرسنگ ہوم میں رہائش پذیر افراد کے پاس ویکسین پہنچنے کی رفتار ان لوگوں کے مقابلے میں کافی سست رہی، جن کا شمار کرونا وائرس کے خلاف لڑنے والوں کی اولین صف میں کیا جاتا ہے۔
بیماریوں سے احتیاط اور کنٹرول کے ادارے نے بتایا ہے کہ دسمبر کی 30 تاریخ تک تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار ایسے افراد کو ویکسین دی جا چکی تھی جو دائمی بیمار ہیں اور نرسنگ ہوم میں رہ رہے ہیں۔ جب کہ ان کے لیے 22 لاکھ خوراکیں فراہم کی گئی تھیں۔
وفاقی عہدے داروں نے بتایا ہےکہ اب تک امریکی ریاستوں کو فائزر اور ماڈرنا کی ایک کروڑ 40 لاکھ خوراکیں مہیا کی جا چکی ہیں۔ جب کہ دسمبر کے دوران دو کروڑ خوراکوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔