ویکسین کو خطرناک قرار دے کر ضائع کرنے والا فارماسسٹ نوکری سے فارغ
امریکی ریاست وسکانسن کے ایک فارماسسٹ نے پولیس کو بتایا ہے کہ اس نے کرونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی سینکڑوں خوراکوں کو اس لیے ضائع کرنے کی کوشش کی کیونکہ اس کے خیال میں وہ انسانی ڈٰ ی این اے کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پولیس نے ملواکی کے شمال میں 20 میل کے فاصلے پر واقع ایک قصبے گرافٹن سے پچھلے ہفتے ایک فارماسسٹ سٹیون برینڈن برگ کو گرفتار کیا تھا جس پر الزام تھا کہ اس نے ماڈرنا ویکسین کی 57 بوتلیں ضائع کر دی تھیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین 500 افراد کو لگانے کے لیے کافی تھی۔
اوزوکی کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ایڈم گیرول نے آن لائن سماعت کے دوران بتایا کہ فارماسسٹ اپنے اس موقف پر ڈٹا ہوا ہے کہ یہ ویکسین محفوظ نہیں ہے۔
اٹارنی نے یہ بھی بتایا کہ فارماسسٹ پریشانیوں میں مبتلا ہے کیونکہ اس کا اپنی بیوی سے طلاق کا معاملہ چل رہا ہے۔ ایک اور شخص نے بتایا کہ فارماسسٹ برینڈن برگ پچھلے کئی دنوں سے کام پر اپنے ساتھ اسلحہ بھی لا رہا تھا۔
مقدمے کی تفتیش کرنے والے ایک عہدے دار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 46 سالہ برینڈن سازشی نظریے سے متاثر ہے۔ اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اس نے ویکسین کو جان بوجھ کر ضائع کیا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا ڈی این اے تبدیل کر کے انہیں نقصان پہنچا سکتی تھی۔
کیا پاکستان کی معیشت کرونا کے منفی اثرات سے نکل کر مثبت راہ پر گامزن ہو رہی ہے؟
پاکستان کے اسٹیٹ بینک نے ملکی معیشت کی کیفیت پر رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جولائی سے ستمبر 2020 کے دوران معیشت میں بعض حوصلہ افزا علامات پائی گئی ہیں۔ ملکی معیشت کرونا وبا کے منفی اثرات سے نکل کر پہلے کی راہ پر دوبارہ گامزن ہو رہی ہے۔
اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت نظر آئی۔
بینک کا کہنا ہے کہ مختلف عوامل سے نشان دہی ہوتی ہے کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے کرونا بحران سے نمٹنے کے لیے بر وقت اور مربوط معاشی پالیسی سے بحران کے شدید اثرات کو کم رکھنے اور معاشی بحالی کی بنیاد رکھنے میں مدد ملی۔
تاہم ماہرِ معاشیات خرم شہزاد کے خیال میں یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ پاکستان کی معیشت کرونا کے اثرات سے نکل آئی ہے۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کرونا کی دوسری لہر چل رہی ہے اور پاکستان بھی اس کا شکار ہے۔ جب کہ دنیا بھر میں معیشتیں دوبارہ مندی کا شکار اور شٹ ڈاؤن موڈ میں جا رہی ہیں جس کا اثر پاکستان پر بھی لامحالہ ضرور پڑے گا۔
مزید جانیے
امریکہ: کرونا ویکسین لگانے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت
امریکہ میں کرونا وائرس کی ویکسین کی دستیابی کا عمل توقع سے زیادہ سست روی کا شکار ہو گیا ہے اور متعدد ریاستوں نے ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
نیو یارک کے گورنر اینڈریو کومو کا کہنا ہے کہ اسپتالوں کے لے یہ لازمی ہو گا کہ وہ ویکسین دستیاب ہونے کے بعد ایک ہفتے کے اندر لوگوں کو فراہم کریں اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسپتالوں پر ایک لاکھ ڈالر تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور انہیں ویکسین وصول کرنے والے اداروں کی فہرست سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کو تین ہفتے سے ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اب تک فراہم کردہ ویکسین کا صرف 46 فی صد استعمال کیا ہے۔ جب کہ نیو یارک میں اسپتالوں میں کرونا مریضوں کی آمد دسمبر کے شروع سے دوگنا ہو چکی ہے۔
فلوریڈا میں ویکسین حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی لمبی قطاریں دکھائی دے رہی ہیں، جہاں طبی عملے اور 65 برس سے زائد عمر کے افراد کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟
دنیا بھر میں ویکسینز کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ ویکسینز کے اثرات کے بارے میں تحقیق جاری ہے اور ایک طویل عرصے تک جاری رہے گی۔ لیکن ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ ویکسینز بنتی کیسے ہیں اور کام کیسے کرتی ہیں؟