ویکسین کرونا کی نئی اقسام کے خلاف بھی کار آمد
جرمنی کی کمپنی 'بائیو این ٹیک' نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی تحقیق کے نتائج کے مطابق ان کی تیار کردہ کرونا ویکسین برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کار آمد ہے۔
امریکی کمپنی 'فائزر' کے اشتراک سے ویکسین تیار کرنے والی کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ ان کی ویکسین لگوانے والوں میں ایسی اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں۔ جو کہ کرونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف بھی کام کرتی ہیں۔
خیال رہے کہ برطانیہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کرونا کی ابتدائی قسم کے مقابلے میں 40 سے 70 فی صد زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے۔
بائیو این ٹیک کا فائزر اور 'یونیورسٹی آف ٹیکساس میڈیکل برانچ' کے ساتھ کی گئی تحقیق کے حوالے سے مزید کہنا ہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے سامنے آنے والے وائرس ویکسین لگوانے والے افراد کی قوت مدافعت کو متاثر نہیں کر سکتا۔
امریکہ: کیلی فورنیا کے اسپتالوں کے باہر ایمبولینسز کی قطاریں
امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے جنوبی علاقوں میں کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے باعث اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت وارڈز میں جگہ کم پڑنے لگی ہے اور ایمرجنسی وارڈ کرونا مریضوں سے بھر گئے ہیں۔
کیلی فورنیا کی اورنج کاؤنٹی کے ایک اسپتال میں وبا سے متاثرہ مریضوں کی ایمبولینسوں کو انتہائی نگہداشت وارڈز میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انتظار کرنا پڑا۔
لاس اینجلس کاؤنٹی میں وبا کے سبب ہر آٹھ منٹ میں ایک ہلاکت رپورٹ کی جا رہی ہے۔ جب کہ دیگر علاقوں میں لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اضافی ریفریجریٹرز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
مقامی اسپتال سے منسلک ڈاکٹر جم کینی کا کہنا ہے کہ ہر بستر پر مریض موجود ہے۔ جب کہ ہر نرس اور ڈاکٹر کرونا مریض کے علاج میں مصروف ہے۔
ڈاکٹر جم کا مزید کہنا تھا کہ ایک مریض کو داخل ہونے سے پہلے پانچ گھنٹوں تک ایمبولینس میں انتظار کرنا پڑا۔
امریکہ کی سب سے گنجان آباد ریاست کیلی فورنیا سے کرونا وائرس کے سب سے زیادہ لگ بھگ 26 لاکھ مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔ جب کہ امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے مطابق ریاست میں اب تک 29 ہزار سے زائد اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔
آسٹریلیا سے بھی وائرس کی نئی قسم کے دو کیس رپورٹ
آسٹریلیا میں وزارتِ صحت کے حکام کا ہفتے کو کہنا تھا کہ وہ کرونا وائرس کی نئی قسم سے متاثرہ ممالک برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے آسٹریلیا آنے والے مسافروں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ریاست کوئنز لینڈ کے دارالحکومت برسبین میں کرونا وائرس کی نئی قسم کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد ہفتے سے تین دن کا سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔
دوسری طرف آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں قائم ایک ہوٹل کے قرنطینہ مرکز میں جنوبی افریقہ سے آنے والے شخص میں نئی قسم وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
آسٹریلیا میں حکومت نے جمعے سے کرونا وائرس کی نئی قسم کے سبب بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی تعداد میں کمی کرتے ہوئے کرونا ٹیسٹ کی منفی رپورٹ کو لازمی قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ آسٹریلیا میں اب تک 28 ہزار سے زائد کرونا کیسز سامنے آئے ہیں۔ جب کہ اس وبا کی وجہ سے 900 اموات ہو چکی ہیں۔
برطانیہ میں یومیہ ریکارڈ ہلاکتیں، لندن کے اسپتالوں میں جگہ کی قلت
برطانیہ میں کرونا وائرس سے جمعے کو ریکارڈ یومیہ اموات ہوئی ہیں۔
برطانیہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وبا کے سبب ایک ہزار 325 افراد ہلاک ہوئے۔ جو کہ گزشتہ برس اپریل میں رپورٹ کی جانے والی ریکارڈ یومیہ اموات سے بھی زیادہ ہیں۔
دوسری طرف وزیرِ اعظم بورس جانسن نے خبردار کیا ہے کہ وبا پھوٹنے کے بعد برطانیہ کے اسپتالوں پر اس وقت سب سے زیادہ دباؤ ہے۔ وبا میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
برطانیہ میں وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد وزیرِ اعظم بورس جانسن نے معاشی سرگرمیاں بند کرنے کے احکامات دیے ہیں۔ وہ ان کوششوں میں ہیں کہ وبا پر قابو پانے کے لیے زیادہ تیزی سے ویکسین شہریوں کو لگائی جائے۔
دارالحکومت لندن کے میئر صادق خان نے بھی خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پیشِ نظر آئندہ چند ہفتوں کے دوران اسپتالوں میں بستر کم پڑ سکتے ہیں۔
امریکہ کی 'جان ہاپکنز یونیورسٹی' کے مطابق برطانیہ میں اب تک 29 لاکھ سے زائد افراد وبا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ جب کہ 79 ہزار سے زائد اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔