‘ایسٹرازینیکا' ویکسین وائرس کی نئی قسم کے خلاف کم مؤثر
برطانوی دوا ساز کمپنی ‘ایسٹرازینیکا' کا کہنا ہے کہ اس کی آکسفرڈ یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کردہ کرونا ویکسین جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف محدود تحفظ دیتی ہے۔
برطانوی جریدے ‘فنانشل ٹائمز' میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کی ایک یونیورسٹی اور آکسفرڈ یونیورسٹی کی تحقیق کی روشنی میں 'ایسٹرازینیکا' کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والے وائرس کے خلاف ان کی کرونا ویکسین کی افادیت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
واضح رہے کہ سائنس دان اور طبی ماہرین کرونا وائرس کی سامنے آنے والی برطانوی، جنوبی افریقی اور برازیلین اقسام سے متعلق زیادہ فکر مند ہیں جو کرونا وائرس کی ابتدائی قسم کے مقابلے میں قدرے تیزی سے پھیلتے ہیں۔
چین میں 'سائنو ویک' ویکسین عام لوگوں کو لگانے کی منظوری
چین میں حکام نے ‘سائنو ویک’ کی تیار کردہ کرونا ویکسین عام لوگوں کو لگانے کی ہفتے کو منظوری دے دی ہے۔
چین میں اس سے قبل سرکاری ادویہ ساز کمپنی کی تیار کردہ ‘سائنو فارم’ کو گزشتہ سال دسمبر میں عام استعمال کے لیے منظور کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ چین میں وبا کے خلاف خدمات انجام دینے والے طبی عملے کے ارکان کو یہ دونوں ویکسین لگائے جانے کا عمل پہلے سے ہی جاری ہے۔
سائنو ویک کا بیان میں کہنا ہے کہ وہ ایک سال میں ایک ارب سے زائد کرونا ویکسین کی خوراکیں فراہم کی جائیں گی۔
وبا کے خلاف سب سے پہلے خبردار کرنے والے چین کے ڈاکٹر کو خراج عقیدت پیش
چین کے شہر ووہان کے شہری ایک سال گزر جانے کے بعد اس ڈاکٹر کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں جس نے سرکاری طور پر کرونا وائرس کی تصدیق سے قبل ہی اس وائرس کے بارے میں خبردار کیا تھا۔
ووہان کے ایک اسپتال میں بطور ماہر امراض چشم کے طور پر خدمات سر انجام دینے والے ڈاکٹر لی وین لینگ شہر میں اس وقت ایک نمایاں شخصیت بن گئے تھے جب انہوں نے کرونا وبا سے متعلق آواز بلند کی تھی۔ تاہم انہیں افواہ پھیلانے کے جرم میں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔
چونتیس سالہ ڈاکٹر کی کرونا وبا کے سبب سات فروری 2020 کو ہلاکت کے بعد عوام نے شدید دکھ کا اظہار تھا۔ آن لائن بھی غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر لی کی ہلاکت کے چند دن بعد معروف معالج ڈاکٹر زونگ ننشان کی طرف سے انہیں ‘چین کا ہیرو’ قرار دیا گیا تھا۔
تاہم چین کے صدر ژی جن پنگ نے جب گزشتہ برس ستمبر میں وبا کے خلاف ڈٹے لوگوں کو ‘ہیروز’ کا مقام دیا تھا تو ڈاکٹر لی سے متعلق کچھ نہیں کہا تھا۔
کرونا ویکسین کے حصول کی عالمی دوڑ کے نقصانات
کرونا وائرس کی ویکسین حاصل کرنے کی عالمی دوڑ تیز تر ہوتی جا رہی ہے۔ امیر ممالک ویکسین کی خوراکوں پر جھپٹ رہے ہیں۔ اس ویکسین نیشنل ازم یعنی صرف اپنے ملک کی فکر سے ایسا مقابلہ جنم لے رہا ہے جس میں کم آمدن والے ملک شاید بہت پیچھے رہ جائیں۔ مگر اس سے فائدہ امیر ممالک کو شاید بہت زیادہ نہ ہو۔