رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:32 9.2.2021

بھارت سے افغانستان ویکسین کی فراہمی

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ایئرپورٹ پر ہیلتھ ورکر بھارت سے آئی کرونا ویکسین وصول کر رہے ہیں۔ بھارتی حکومت نے افغانستان کو کرونا وائرس ویکسین کی خوراکیں عطیہ کی ہیں۔

14:52 9.2.2021

پاکستان میں اموات 12 ہزار سے متجاوز

پاکستان میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان میں اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور وبا سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 12 ہزار 66 ہو گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق فروری کے مہینے میں پاکستان میں 383 افراد وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں وبا کی دوسری لہر کا آغاز نومبر کے آغاز میں ہوا تھا جس کے ساتھ ہی اموات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا تھا۔ دسمبر کے آخر میں وبا سے اموات بلند سطح پر تھیں' البتہ جنوری میں اس میں کسی حد تک کمی آئی۔ جب کہ فروری میں بھی ہلاکتوں کی اوسط جنوری کے اعدادوشمار کے قریب ہے۔

14:43 9.2.2021

کین سائنو کی ایک ڈوز والی ویکسین 74 فی صد مؤثر

وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ چین کی کمپنی 'کین سائنو بائیو' کی ایک ڈوز والی ویکسین کے پاکستان میں ہونے والے ٹرائلز کے اعداد و شمار سے واضح ہوا ہے کہ یہ 74.8 فی صد مؤثر ہے۔ جب کہ شدید متاثرہ مریضوں کے لیے یہ 100 فی صد کار آمد ہے۔

ٹوئٹر پر ایک بیان میں ڈاکٹر فیصل سلطان کا مزید کہنا تھا کہ انڈیپینڈنٹ ڈیٹا مانیٹرنگ کمیٹی (آئی ڈی ایم سی) نے اس ویکسین کے کسی مضر یا منفی اثرات کے حوالے سے بھی رپورٹ نہیں کیا۔

ان کے مطابق ان ٹرائلز میں 30 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔

14:12 9.2.2021

سندھ میں سیاسی بنیادوں پر کرونا ویکسی نیشن کا الزام

پاکستان کے صوبے سندھ میں ہفتے کو فرنٹ لائن ورکر نہ ہونے کے باوجود بعض افراد کو کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائے جانے پر سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سابق گورنر سندھ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر کی بیٹی اور داماد نے اپنی تصاویر سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کر کے بتایا کہ وہ وبا سے بچاؤ کی پہلی ڈوز لگوا چکے ہیں۔

تصاویر سامنے آنے کے بعد اس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے خوب تنقید کی گئی اور صوبۂ سندھ میں ابتداً ہیلتھ ورکرز کے بجائے دیگر افراد کو ویکسین لگانے کو بدانتظامی اور وی وی آئی پی کلچر سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ان دونوں افراد کو چھ فروری کو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی میں قائم ایک سینٹر میں ویکسین لگائی گئی۔ یاد رہے کہ صوبے بھر میں ایسے 11 سینٹرز قائم ہیں جن میں سے نو صوبائی دارالحکومت کراچی اور ایک شہید بے نظیر آباد اور دوسرا حیدرآباد میں قائم کیا گیا ہے۔ جہاں صوبے کو ملنے والی 83 ہزار ویکسینز دستیاب ہیں۔

اگرچہ دیگر صوبوں کی طرح سندھ میں بھی ویکسین کے لیے ہیلتھ کیئر کے عملے کو رجسٹریشن کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد ایس ایم ایس وصول ہونے پر ہی وہ متعلقہ سینٹر میں جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ تاہم اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ محمد زبیر کے اہلِ خانہ نے کس طرح ویکسین لگوانے کے لیے خود کو رجسٹرڈ کرایا یا کسی اور کی رجسٹریشن پر خود کو ویکسین لگوانے میں کامیاب ہوئے۔

ادھر صوبائی محکمۂ صحت کی ترجمان میران یوسف نے بتایا کہ غیر متعلقہ افراد کو ویکسین لگانے کے الزام میں گریڈ 18 کی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر انیلا قریشی کو معطل کردیا ہے۔

مزید جانیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG