امریکہ میں پانچ کروڑ افراد کو ویکسین لگا دی گئی: سی ڈی سی
امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگران ادارے، سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اب تک پانچ کروڑ سے زائد افراد کو کرونا ویکسین لگ چکی ہے۔
سی ڈی سی حکام کے مطابق ہفتے کی شب تک ملک بھر میں چھ کروڑ 69 لاکھ سے زائد خوراکیں تقسیم کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ہفتے تک ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کو ویکسین کی دوسری خوراک بھی لگ گئی ہے۔
امریکہ میں دوا ساز کمپنیوں 'فائزر' اور 'موڈرنا' کی تیارکردہ ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
امریکہ میں حالیہ دنوں میں کرونا کے یومیہ کیسز میں کمی کا رُحجان ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اب تک دو کروڑ 75 لاکھ 75 ہزار سے کیس رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ اس مہلک وبا سے چار لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وبا سے صحت یاب ہونے والا شخص چار ماہ میں پھر متاثر
یورپ کے ملک فرانس میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق ڈاکٹرز کرونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم سے متاثر ہونے والے ایک ایسے مریض کے علاج میں کوشاں ہیں جو کہ چار ماہ پہلے وائرس سے صحت یاب ہوا تھا۔
اٹھاون سالہ شخص پچھلے سال ستمبر میں بخار اور سانس لینے میں دشواری کی شکایات کے ساتھ ڈاکٹروں کے سامنے پیش ہوا جس میں بعد ازاں کرونا وائرس کی تشخیص کی گئی۔
کرونا وائرس کی یہ علامات کچھ دن برقرار رہی تھیں اور دسمبر میں اس کے کرونا ٹیسٹ منفی آئے تھے۔
تاہم رواں سال جنوری میں مذکورہ شخص میں کرونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔
مریض کی حالت انتہائی پیچیدہ ہے اور اسے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے کہ جس میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والا شخص چار ماہ بعد کرونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم سے متاثر ہوا ہے۔
صحت یاب ہونے والے افراد کے لیے ویکسین کی ایک خوراک بھی مؤثر
فرانس میں حکام نے ایسے افراد کو کرونا ویکسین کی صرف ایک خوراک لگوانے کی تجویز دی ہے جو کرونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ یورپی یونین میں لگائی جانے والی تینوں کرونا ویکسینز کی دو خوراکیں لگائی جاتی ہیں۔ جو کہ چند ہفتوں کے وقفے سے لگتی ہیں۔
وزارتِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ جو افراد کرونا وائرس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں بالکل ویسا ہی مدافعتی نظام پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ کرونا ویکسین کی ایک خوراک لگائے جانے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔
حکام کا مزید کہنا تھا کہ ان افراد کو لگائے جانے والی کرونا ویکسین کی ایک خوراک ہی وبا کے خلاف لڑنے کے لیے کار آمد ہو گی۔
حکام کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کرونا سے متاثر ہونے والے افراد وائرس کا شکار ہونے کے تین سے چھ ماہ کے اندر ویکسین لگوائیں۔
خیال رہے کہ فرانس پہلا ملک ہے۔ جس کی طرف سے کرونا سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے ویکسین کی صرف ایک خوراک تجویز کی گئی ہے۔
وبا کی نئی اقسام پر تحقیق میں تیزی
یورپ کی یورپین میڈیسنز ایجنسی (ای ایم اے) کی کرونا وبا سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی ٹاسک فورس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ وبا کی نئی اقسام پر تحقیق میں تیزی لا رہے ہیں تا کہ ویکسین ان نئی اقسام کے خلاف بھی کار آمد ہو سکیں۔
ٹاسک فورس کے سربراہ مارکو کیولری کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی نئی اقسام پر پہلے کی طرح طویل آزمائشی عمل دہرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ان اقسام کے خلاف بنائی گئی ویکسین چھوٹے گروپس کے ذریعے بھی ٹیسٹ کی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ ‘فائزر’، ‘موڈرنا’ اور ‘ایسٹرا زینیکا’ اپنی تیار کردہ کرونا ویکسینز، قدرے تیزی سے پھیلنے والی کرونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف کار آمد ہونے سے متعلق تحقیق کیا جا رہی ہے۔
برازیل، برطانیہ اور جنوبی افریقہ سے سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی اقسام پہلے ہی دنیا کے کئی ممالک میں پھیل چکی ہیں اور حکام وبا پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں۔ جس سے اب تک لگ بھگ 25 لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔