مریضوں میں علامات عالمی نظامِ صحت کے لیے بڑا چیلنج
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس کے خاتمے کے بعد بھی مریضوں میں اس کی علامات کے اثرات عالمی صحت پر ہوں گے اور اس کی وجہ وبا کی شدت ہے۔
ڈبلیو ایچ او اس بارے میں تحقیق کر رہا ہے کہ کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے چھ ماہ بعد بھی لوگ کیوں کر مختلف تکالیف کا شکار رہتے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی ہیلتھ کیئر ریڈی نیس کی ٹیم ڈائریکٹر جینیٹ ڈیاز کا کہنا ہے کہ وائرس کے بعد کی علامات کے ساتھ کچھ لوگ جنہیں لانگ کووڈ کے نام سے بھی شناخت کیا جاتا ہے، کام پر واپس جانے کے قابل نہیں ہوئے۔ ایسے مریضوں میں معذوری کی علامات اُن کی مکمل بحالیٔ صحت کے عمل کو طویل بنا رہی ہیں۔
جینیٹ ڈیاز کہتی ہیں کرونا کے بعد مریضوں میں جو علامات عام ہیں، ان میں تھکاوٹ، سر درد اور حواسِ خمسہ کا مکمل فعال نہ ہونا شامل ہیں۔
فلم سازوں کی اسٹریمنگ سروسز سے معاہدے کر کے سرمایہ کاری بچانے کی کوشش
دنیا بھر کے سنیما کرونا وائرس کی وجہ سے نئی فلمیں ریلیز نہ ہونے اور مختلف ملکوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں فلم میکرز اسٹریمنگ سروسز سے معاہدے کر کے اپنی سرمایہ کاری بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
بہت سے پروڈیوسرز اس شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ اپنی فلم اسٹریمنگ سروس کو دیں یا ویکسین عام ہونے کے بعد تک کا انتظار کریں تاکہ اسے سنیماؤں میں ریلیز کیا جا سکے۔
متعدد ہالی وڈ فلم میکرز نے اپنی فلموں کی ریلیز آگے بڑھا دی ہے تاکہ جب سنیما کھلیں تو شائقین ان کی فلمیں تھیٹر میں دیکھ سکیں۔
بعض پروڈیوسرز نے اسٹریمنگ سروسز کے ساتھ معاہدے کر لیے ہیں تاکہ اگر سنیما وقت پر نہ کھلے تو اُن کی فلم شائقین تک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پہنچ جائے۔
جلد ہی زیک اسنائیڈر کی 'جسٹس لیگ' ایچ بی او میکس پر ریلیز ہو گی جب کہ 'ونڈر وومن' کا سیکوئل گزشتہ دسمبر میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی زینت بن چکا ہے۔
کرونا ویکسین لگانے کے بعد سفر کرنا کتنا محفوظ ہے؟
وائس آف امریکہ کے مستقل سلسلے 'لائف 360' صحت مند زندگی گزارنے کے بارے میں معلومات پر مشتمل ہے۔ آج کا موضوع کرونا وائرس ہے۔ صبا شاہ خان جائزہ لے رہی ہیں کہ کیا دو فیس ماسک پہننا ایک سے بہتر ہے اور کیا کرونا ویکسین لینے کے بعد سفر پر نکلنا محفوظ ہے؟
دنیا بھر میں کیسز میں مسلسل پانچویں ہفتے کیسز میں کمی
ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس کی نئی اقسام نے محققین کے لیے مزید مؤثر ویکسین بنانے کا چیلنج لا کھڑا کیا ہے۔ دنیا میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل پانچویں ہفتے کمی آئی ہے۔
صحتِ عامہ کے ماہرین کے لیے وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں دنیا میں سب سے زیاد دو متاثرہ ممالک امریکہ اور بھارت میں بھی نئے کیسز میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔
اس کے علاوہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بھی نئے کیسز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ ہفتے پچھلے پانچ ماہ میں اس متعدی مرض کے کیسز کم ترین سطح پر ریکارڈ کیے گئے۔